1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برطانوی اخبار کے بند ہونے کی خبر دھماکے سے کم نہ تھی

گزشتہ روز برطانیہ کے مشہور اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے بند ہونے کی خبر ایک بم دھماکے سے کم نہ تھی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے لکھا ہے کہ اخبار کے مالک مرڈوک کے اس اعلان نے سب کو حیران کر کے رکھ دیا ہے۔

default

اخبار ٹیلیگراف کے مطابق یہ ایک لرزا دینے والا اعلان تھا۔ آئندہ اتوار کے بعد ملک میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔ اس اخبار کے مالک روپرٹ مرڈوک کے بیٹے اور میڈیا گروپ ’نیوز انٹرنیشنل‘ کے سربراہ جیمز مرڈوک کا کہنا ہے کہ 168 سال سے شائع ہونے والا روایتی اخبار کو اب شائع نہیں کیا جائے گا، ’’اس کمپنی نے ہمیشہ میڈیا اور صحافت میں ایک عظیم کردار ادا کیا ہے۔ ہمارا آج بھی روایتی صحافت پر یقین ہے، بعض اوقات صحافتی معیار کو مد نظر نہیں رکھا گیا اور یہ میرے اور ہماری کمپنی کے لیے شرمندگی کی بات ہے۔‘‘

اس اخبار کے آخری شمارے میں کوئی بھی اشتہار شائع نہیں کیا جائے گا۔ اس کی بجائے فلاحی کام کرنے والی تنظیموں کے اشتہارات کو بلا معاوضہ جگہ دی جائے گی۔ اخبار کے مطابق آخری اشاعت سے حاصل ہونے والی آمدنی اچھے مقاصد کے لیے عطیہ کر دی جائے گی۔

NO FLASH News of the World

اس اخبار کے بند ہونے سے 200 صحافیوں کو بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے

حالیہ ٹیلی فون ہیکنگ اسکینڈل سے نہ صرف اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ بلکہ پورے میڈیا گروپ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس اخبار کے بند ہونے سے 200 صحافیوں کو بھی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔ ان صحافیوں کے مطابق یہ ان کے ساتھ سرا سر زیادتی ہے۔

برطانیہ کے سابق نائب وزیر اعظم لارڈ جان پریس کوٹ نے کہا ہے کہ اخبار کو بند کرنے کا اعلان ایک پبلسٹی سٹنٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ ناقدین کی نظر میں ربیکہ بروکس کا ابھی تک نیوز انٹرنیشنل کے پبلشنگ بورڈ میں کام کرنا ایک سوالیہ نشان ہے۔ اسی مناسبت سے برطانیہ میں اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ ریبکہ بروکس کو بھی ان کے عہدے سے ہٹایا جائے، ’’میں نہیں چاہتا کہ اخبار بند کیے جائیں۔ میں چاہتا ہوں کہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔ اس واقعے کے ذمہ دار وہ ہیں، جو اس اخبار کو چلاتے ہیں۔ اور ابھی تک ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا گیا۔‘‘

میڈیا ماہرین کے مطابق مرڈوک کبھی بھی میڈیا مارکیٹ نہیں چھوڑیں گے۔ بی بی سی کی معلومات کے مطابق وہ چند ہفتوں بعد اپنی اخبار ’سن‘ کا ویک اینڈ ایڈیشن شروع کر دیں گے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM