1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کا آخری پرنٹ ایڈیشن

معروف برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ اب صرف ڈیجیٹل فارمیٹ میں ہی دستیاب ہو گا۔ تیس سالہ پرانے اس اخبار کا آخری پرنٹ ورژن جمعے کو شایع ہوا ہے۔

اخبار سے وابستہ صحافیوں نے آن لائن تصویر شایع کی ہے جس میں وہ زور زور سے ڈیسک بجا رہے ہیں۔ ایسا روایتی طور پر کسی ساتھی کے دفتر چھوڑنے پر کیا جاتا ہے۔ ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے ملازمین نے ڈیسک بجا کر دراصل تیس برس کے عرصے تک چھپنے والے کاغذی ایڈیشن کو الوداع کہا ہے۔

اخبار نے اپنے آخری اداریے میں لکھا ہے کہ تاریخ اسے ایک ایسے جری اقدام پر پرکھے گی جس میں اسے نے آن لائن میڈیا کی طرف رخ کر کے دیگر اخبارات کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔

اداریہ مزید کہتا ہے، ’’آج پریس مشینیں رک گئی ہیں، سیاہی خشک ہو گئی ہے اور کاغذ کی آواز خاموش ہو گئی ہے۔

''تاہم جب ایک باب بند ہوتا ہے تو دوسرا کھل جاتا ہے۔ ’انڈیپینڈنٹ‘ کا جذبہ نمو پاتا رہے گا۔‘‘

اخبار کے روسی نژاد برطانوی مالک ایوگینی لیبیدیف نے پرنٹ ایڈیشن کو روکنے کا اعلان گزشتہ ماہ کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ صحافت غیر معمولی حد تک تبدیل ہو چکی ہے، اور اس کے ساتھ اخبار کا تبدیل ہونا بھی ناگزیر ہے۔

واضح رہے کہ اس اخبار کو تین سابقہ صحافیوں نے سن انیس سو چھیاسی میں شایع کرنا شروع کیا تھا۔ رفتہ رفتہ یہ اخبار ترقی کی منزلیں طے کرتا گیا۔

اپنے عروج کے وقت اس اخبار کی اشاعت چار لاکھ بیس ہزار تھی، تاہم حالیہ کچھ عرصے میں اس کی اشاعت سمٹ کر چالیس ہزار رہ گئی تھی۔

ایک اور معروف برطانوی اخبار ’دا گارڈیئن‘ نے اپنے اداریے میں ’انڈیپینڈنٹ‘ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ایک ایسا ’’شان دار اخبار‘‘ قرار دیا ہے جو کہ اشتہاری مارکیٹ میں ڈرامائی تبدیلیوں اور سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹس کی آمد کی وجہ سے خسارے کا شکار ہو رہا تھا۔

'گارڈیئن‘ لکھتا ہے: ’’عظیم اخبارات جو صدیوں سے کام کر رہے ہیں اب نئی مشکلات کا شکار ہیں۔ لہٰذا کوئی بھی ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کے پرنٹ ایڈیشن کے اختتام پر خوش نہیں ہو سکتا۔‘‘

گارڈیئن کی طرح انڈیپینڈنٹ بھی مرکز سے بائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔ دونوں اخبارات نے سن د ہزار تین میں برطانیہ کی عراق میں جنگ کے لیے امریکی اتحاد میں شمولیت کی شدید مخالفت کی تھی۔

ہفتے کے روز اپنے آخری پرنٹ ایڈیشن میں اخبار کی تاریخ پر نظر ڈالی گئی ہے۔