1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برسلز - یو کے، کہانی ختم

یورپی یونین کے لیے ایک خوفناک خواب دراصل حقیقت کا روپ اختیار کر چکا ہے۔ برطانیہ نے بریگزٹ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے، مگر ڈی ڈبلیو کے تجزیہ نگار راب مج کا کہنا ہے کہ برسلز کو چاہیے کہ وہ خود کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرائے۔

ناول نگار جین آسٹن کے معروف ناول ’’پرائڈ اینڈ پریجوڈس‘ یعنی فخر اور تعصب میں محبت کرنے والے ایک تھکے ہارے شخص کے جزبات ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں ’’ناراض یا غصے میں آئے ہوئے لوگ ہمیشہ عقل مند نہیں ہوتے‘‘۔ یہی بات برطانیہ میں سامنے آنے والے تاریخی فیصلے پر بھی لاگو کرتی ہے، یعنی ناراض لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کا سبب بنی۔ اب لندن اور براعظم یورپ کے دیگر ممالک کے دارالحکومتوں میں غصہ، مایوسی اور نا امیدی کی کیفیت ہو گی۔

اور یہ بالکل جائز ہے، غصہ ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ ڈیوڈ کیمرون پر غصہ کہ وہ اپنی ہی پارٹی میں موجود یورپ مخالفین کے ہاتھوں بلیک میل ہوئے اور انہوں نے ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا۔ اب ہمیں اندازہ ہوا ہے کہ یہ برطانیہ اور خود اُن کے لیے کتنا بڑا جُوا اور صورتحال کا غلط اندازہ تھا۔ قوم پرستی اور مقبول نکتہ ہائے نظر پر غصہ، خوفناک صورتحال کی عکاسی پر غصہ، یورپی یونین سے نکلنے کے حامیوں کے لیے زرخیز حالات پر غصہ اور یورپ میں رہنے کے حامیوں کی طرف سے عقلی دلائل پر غصہ۔ برسلز کی لاپرواہی اور بے عملی پر غصہ جو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس کے اداروں کو ایک بیماری کی طرح چمٹ چکے ہیں اور وہ برطانیہ جیسے ممالک کے یورپی یونین چھوڑنے کی وجہ بننے والے تحفظات کو سمجھ نہ سکا۔

لیکن اگر ہم ایک قدم پیچھے لیں تو کیا واقعی ہم اس فیصلے پر حیران ہیں؟ کیا لندن ہمیشہ سے ہی یورپی یونین کے اندر ہونے کی بجائے، زیادہ باہر نہیں تھا؟ ہم برطانوی، یورپی یونین کی طرف سے ملنے والی آسانیوں پر تو بہت خوش تھے مگر اس کے علاوہ ہم آپ کے بغیر بھی اچھی طرح گزارہ کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

یہ ریفرنڈم ایک موقع ہو سکتا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیتا اور ایک سوشل مارکیٹ اکانومی کا درست معنوں میں حصہ بنتا، جو یورپی یونین نے بنانے میں مدد دی۔ ڈیوڈ کیمرون کی تمام تر غلطیوں کے باوجود، انہوں نے حالیہ مہینوں کے دوران برسلز کو جن اصلاحات پر راضی کیا تھا، ان سے فائدہ اٹھایا جاتا۔

کیا برطانیہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا؟ اسکاٹ لینڈ کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ یورپی یونین میں شمولیت کے لیے برطانیہ سے آزادی کی ایک اور کوشش کر سکتا ہے۔ شمالی آئرلینڈ بھی اس کی پیروی کر سکتا ہے۔ اور یہ سوال بھی موجود ہے کہ کیا لندن باقی برطانیہ سے باہر ہو سکتا ہے کیونکہ لندن نے تو برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں ووٹ نہیں دیا۔

برطانیہ نے بریگزٹ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے

برطانیہ نے بریگزٹ کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے

جرمنی کے لیے یہ ڈراؤنے خواب جیسی صورتحال ہے۔ میرکل اور کیمرون مل کر برسلز میں ضروری اصلاحات کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ کہنے والے لوگ بھی موجود ہیں کہ اب کم از کم جرمن برطانویوں اپنی شرائط نہیں ٹھونس سکیں گے تاہم یہ دیکھنا دلچسپی کا حامل ہو گا کہ جرمن مدد اور مہارت سے الگ ہو کر برطانیہ کس قدر کاروباری کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

ابھی کوئی بھی یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ کو برطانیہ معاشی اور سماجی طور پر بریگزٹ سے قبل والی صورتحال تک پہنچنے میں کتنا طویل عرصہ درکار ہو گا۔ کیا برطانیہ کے بعد یورپی یونین میں شامل دیگر ممالک بھی یہی راہ اپنا سکتے ہیں؟

ریفرنڈم سے قبل ان تمام خدشات کا اظہار کیا ہی جا رہا تھا تاہم اب دیکھنا یہ بھی ہے کہ کیا یہ نتیجہ یورپی یونین کو اجتماعی نیند سے جگا پائے گا کہ وہ اپنے گھر کو سدھار سکیں۔ یہ بات اب وقت ہی بتا پائے گا۔

ایک اور چیز، پیارے برطانوی ساتھیو، اگر آپ ان تمام سالوں کے دوران یورپی یونین میں شامل رہنے کی وجہ سے اتنے ہی مسائل کا شکار تھے تو پھر آپ کو اس سے نکلنے کا یہ فیصلہ کرنے میں آپ کو اتنا طویل عرصہ کیوں لگا؟