1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برسلز کے خود کش حملہ آور کا بھائی تیکوانڈو کا یورپی چیمپئن

دو بھائیوں کی یکساں خاندانی تربیت کے نتائج کتنے متضاد ہو سکتے ہیں، اس کی نئی مثال یہ ہے کہ برسلز میں خود کش حملہ کرنے والے ایک دہشت گرد کا بھائی تیکوانڈو کا یورپی چیمپئن بن گیا ہے اور آئندہ اولمپک مقابلوں میں حصہ لے گا۔

Mexiko Weltmeisterschaft Taekwondo 2013

مراد العشراوی، دائیں، عالمی تیکوانڈو چیمپئن شپ کے ایک میچ میں منگولیا کے ایک کھلاڑی کا مقابلہ کرتے ہوئے

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز سے ہفتہ اکیس مئی کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق مراد العشراوی نے جو بیلجیم کا ایک مراکشی نژاد شہری ہے، تیکوانڈو کی یورپی چیمپئن شپ کے فائنل میں سونے کا تمغہ جیت لیا ہے اور اب اس کی نظریں برازیل میں ہونے والے رِیو اولمپک مقابلوں پر لگی ہیں۔

مراد کی عمر 21 برس ہے اور اس نے جمعہ بیس مئی کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر مونترو Montreux میں ہونے والی یورپی تیکوانڈو چیمپئن شپ میں 54 کلوگرام سے کم جسمانی وزن کی کیٹیگری میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ مراد العشراوی کی کامیابی پر بیلجیم میں فلیمِش تیکوانڈو فیڈریشن نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’مراد لائٹ ویٹ کیٹیگری میں یورپ کا بادشاہ ہے۔‘‘

یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سال پانچ اگست سے برازیل کے شہر رِیو ڈی جینیرو میں جو اولمپک مقابلے شروع ہو رہے ہیں، ان میں شرکت کے لیے مراد کا نام بیلجیم کے کھلاڑیوں کے 185 رکنی دستے میں پہلے ہی سے شامل ہے اور وہ برازیل میں بھی اپنے وطن کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔

مراد کے برعکس اس کا بڑا بھائی نجم العشراوی ایک ایسا 24 سالہ دہشت گرد تھا، جس نے بیلجیم میں 22 مارچ کو کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں خود کو برسلز کے ہوائی اڈے پر ایک بم دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ ان حملوں کے دوران برسلز شہر کے زیر زمین ریلوے نظام پر بھی ایک خود کش بم حملہ کیا گیا تھا اور مجموعی طور پر ان حملوں میں 32 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے تھے۔

Belgien Frankreich Web-Video Foto von Najim Laachraoui alias Soufiane Kayal

مراد کا بڑا بھائی نجم العشراوی جس نے برسلز ایئر پورٹ پر خود کش بم دھماکا کیا تھا

برسلز حملوں کے دو روز بعد مراد العشراوی نے اسی سال 24 مارچ کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا بڑا بھائی نجم العشراوی ایک باقاعدہ تربیت یافتہ الیکٹرومکینک تھا جو ایک ایسا ’خوش اخلاق‘ اور ’ذہین لڑکا‘ بھی تھا، جس کی بنیاد پرستانہ سوچ کے کوئی آثار 2013 میں اس وقت سے پہلے کبھی نظر نہیں آئے تھے، جب وہ شام چلا گیا تھا۔ شام جانے کے بعد نجم العشراوی نے اپنے اہل خانہ کے ساتھ اپنے جملہ رابطے منقطع کر دیے تھے۔

فرانس اور بیلجیم کے تفتیشی ماہرین کی رائے میں شام سے واپسی پر نجم العشراوی ایک ایسا اسلام پسند بن چکا تھا، جسے عسکریت پسندی کا عملی تجربہ بھی تھا۔ اس کے بارے میں یہ شبہ بھی ہے کہ نومبر 2015 میں پیرس میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں استعمال ہونے والے بارودی جیکٹیں اور بیلٹیں بھی اسی نے بنائی تھیں۔ پیرس حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

برسلز حملوں کے بعد جب بیلجیم کی پولیس نے مراد العشراوی سے بھی پوچھ گچھ کی تھی، تو مراد کے وکیل فیلیپ کُولو نے کہا تھا، ’’یہ بات سچ مچ پاگل کر دنے والی ہے کہ خاندان بھی وہی، والدین بھی وہی، تربیت بھی وہی، لیکن پھر بھی ایک بیٹا حقیقی معنوں میں اچھا نکلتا ہے اور دوسرا حقیقی معنوں میں بہت برا۔‘‘

اس موقع پر خود مراد العشراوی نے بھی بہت مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا، ’’آپ جس خاندان میں پیدا ہوتے ہیں، اس کا انتخاب آپ خود نہیں کرتے۔ آپ ایسا کر ہی نہیں سکتے۔‘‘

DW.COM