برسلز کا ہوائی اڈہ تاحال بند، مفرور ملزم کی تلاش جاری | حالات حاضرہ | DW | 23.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برسلز کا ہوائی اڈہ تاحال بند، مفرور ملزم کی تلاش جاری

برسلز میں ہوائی اڈے پر ہونے والے دوہرے بم دھماکے کے بعد سے یہ ہوائی اڈہ تمام طرح کی پروازوں کے لیے تاحال بند ہے جب کہ اس واقعے میں ملوث تیسرے حملہ آور کی تلاش کے لیے چھاپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حکام کے مطابق برسلز کا ہوائی اڈہ مسافر پروازوں کے لیے کل 24 مارچ کو بھی بند رہے گا۔ گزشتہ روز اس ایئرپورٹ پر ہونے والے دوہرے خودکش بم حملے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے جب کہ ان حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ برسلز کے مرکزی ہوائی اڈے سیونٹم میں تفتیش کا عمل مکمل ہونے تک اسے مکمل طور پر بند رکھا جائے گا۔

دونوں حملہ آور بھائی تھے

برسلز ایئرپورٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا دینے والے حملہ آوروں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ دونوں بھائی تھے۔ ان دونوں کا ممکنہ تعلق پیرس حملوں کے ملزم صالح عبدالسلام سے بھی تھا۔

بیلجیم کے میڈیا کے مطابق برسلز کے ہوائی اڈے پر ہونے والے دوہرے خودکش حملے میں خالد اور براہیم البکراوی ملوث تھے۔ گزشتہ ہفتے خالد البکراوی نے جعلی نام کے ساتھ برسلز میں ایک اپارٹمنٹ کرائے پر حاصل کیا تھا، جہاں سے پولیس کو عبدالسلام کی انگلیوں کے نشانات بھی ملے ہیں۔

پولیس نے پیرس حملوں میں ملوث مشتبہ ملزم عبدالسلام کو گزشتہ جمعے کو برسلز میں ایک ڈرامائی کارروائی کے نتیجے میں گرفتار کیا تھا۔

برسلز حملوں کا ایک ملزم تاحال فرار

برسلز حملوں میں ملوث تیسرے ملزم نجم عشراوی کی تلاش میں پولیس چھاپے مار رہی ہے۔ بیلجیم کے میڈیا پر جاری ہونے والی ایک تصویر میں تین افراد دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے دو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ خودکش بمبار خالد اور براہیم تھے، جب کہ تیسرا شخص عشراوی تھا۔ اس تصویر میں تینوں افراد ایئرپورٹ پر سامان لے جانے والی ٹرالیاں دھکیل رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ عشراوی ہی وہ شخص تھا، جس نے اپنی ٹرالی میں ایک سوٹ کیس بم رکھا ہوا تھا۔ اس تصویر میں دونوں مشتبہ خودکش بمباروں نے اپنے بائیں ہاتھوں پر سیاہ دستانے پہن رکھے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر یہ دونوں بمبار ان دستانوں کے اندر بموں کے ڈیٹونیٹرز چھپائے ہوئے تھے۔

Belgien Sicherheitskontrolle am Hauptbahnhof in Brüssel

بیلجیم میں سکیورٹی انتہائی سخت ہے

مقامی میڈیا کےمطابق عشراوی کا ڈی این اے پیرس حملوں کے ملزم صالح عبدالسلام کے گھر سے بھی ملا ہے۔ گزشتہ برس ستمبر میں وہ عبدالسلام کے ساتھ ہنگری بھی گیا تھا۔

خودکش بمبار پولیس کی نگاہ میں تھے

بیلجیم کی پولیس کا کہنا ہے کہ برسلز حملوں میں ملوث دونوں خودکش بمبار مختلف مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے پولیس کی نظر میں تھے، تاہم انہیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کے تناظر میں نہیں دیکھا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق خالد اور براہیم دونوں منظم جرائم میں ملوث رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ خالد نے جعلی دستاویزات استعمال کر کے برسلز میں ایک اپارٹمنٹ بھی کرائے پر حاصل کیا تھا۔ گزشتہ ہفتے اسی مکان پر پولیس نے چھاپہ مارا تھا اور وہاں پولیس اور ملزمان کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔

یورپی یونین کی سرحدوں کی حفاظت ضروری، اولانڈ

فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ نے بدھ کے روز کہا کہ یورپی یونین کے سرحدوں کی حفاظت ’فوری‘ بنیادوں پر انتہائی ضروری ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسلز حملوں کے بعد ان سرحدوں کا تحفظ اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ ان حملوں کی ذمہ داری دہشت گرد گروہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے قبول کی ہے۔

فرانسیسی وزیر اعظم مانویل والس نے بھی فرنچ ریڈیو سے بات چیت میں کہا، ’’یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو مضبوط بنانا انتہائی ضروری ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے بہت سے یورپی شہریوں کے پاسپورٹ چرائے ہیں اور ایسے میں کسی بھی شخص کے یورپی یونین میں داخل ہوتے وقت یہ دیکھا جانا ضروری ہے کہ کہیں وہ جعلی دستاویزات کے ساتھ تو یورپ میں داخل نہیں ہو رہا۔