1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برسلز میں نیٹو ممالک کے سربراہان کا اجلاس شروع

آج بیلجیم کے دارالحکومت میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کا سربراہی اجلاس شروع ہو گیا ہے۔ اجلاس کے آغاز پرشرکاء نے برطانوی شہر مانچسٹر میں ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہونے والوں کے احترام میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

نیٹو اجلاس میں شریک برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے مانچسٹر حملوں کے تناظر میں امریکا ذرائع کے جانب سے افشا ہونے والی خفیہ معلومات کا موضوع اٹھایا۔ مے کے ترجمان کے بقول برطانوی وزیر اعظم نے اس موضوع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست بات کی، ’’ مے نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ معلومات کے تبادلے کے حوالے سے قائم روابط بہت اہم اور گراں قدر ہیں اور فراہم کی جانے والی معلومات کو راز ہی رکھنا چاہیے۔‘‘  

Griechisch PM Tsipras, US-Präsident Trump, Ungarisch PM Orban und Großbritanniens PM Mai (Reuters/J. Ernst)

نیٹو سمٹ کے موقع پر برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

اس سربراہ اجلاس کے موقع پر جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ نے نیٹو کے صدر دفتر میں دو نئی یادگاروں کی بھی نقاب کشائی بھی کی۔ ایک میموریئل میں دیوار برلن کے دو ٹکڑوں کو جوڑا گیا جس سے مراد منقسم یورپ کا اختتام ہے۔ دوسری میں ستمبر گیارہ کے حملوں کے مقام سے لی گئی ایک اسٹیل بیم ہے، جو نیٹو کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

 مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے برسلز منعقدہ اجلاس سے قبل جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے انقرہ حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ ترکی میں تعینات جرمن فوجیوں کو واپس بھی بلایا جا سکتا ہے۔  میرکل نے کہا کہ اگر ملکی پارلیمنٹ کے اراکین کو ترک فوجی اڈے انجرلیک میں جرمن فوجیوں سے ملنے نہیں دیا گیا تو فوجیوں کو واپس بھی طلب کیا جا سکتا ہے۔ نیٹو اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن بھی شریک ہیں۔ ترک حکومت نے دو طرفہ تعلقات میں سرد مہری پیدا ہونے کے بعد انجرلیک کے فوجی ہوائی اڈے تک جرمن اراکینِ پارلیمان کی رسائی کو محدود کر دیا ہے۔ اس ہوائی اڈے پر 260 جرمنی کے فوجی متعین ہیں۔ نیٹو کا دو روزہ سربراہی اجلاس کل چھبیس مئی کو ختم ہو گی۔