1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برسلز میں ناکام خود کش حملہ، مارا جانے والا مراکشی تھا

بیلجیم کے دارالحکومت برسلز کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر ایک خود کش حملے کی ناکام کوشش کرنے والے حملہ آور کو پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ حملہ آور اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا اور وہ ایک مراکشی نژاد باشندہ تھا۔

default

برسلز کا مرکزی ریلوے اسٹیشن: حملہ آور بم دھماکے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں کی فائرنگ میں مارا گیا

برسلز سے بدھ اکیس جون کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اس شدت پسند نے بیلجیم کے دارالحکومت کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر یہ حملہ کرنے کی کوشش کی تاہم اس نے جس بم کا دھماکا کیا، اس کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن کےایک حصے کو آگ تو لگ گئی لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد یہ شدت پسند سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق اس حملہ آور نے اپنی بارودی جیکٹ کو دھماکے سے اڑا دینے سے پہلے ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ بھی لگایا تھا۔ ’’لیکن اس بم کی وجہ سے بس ایک مقابلتاﹰ چھوٹا دھماکا ہوا، جس کے بعد اسٹیشن  کے مرکزی انڈر گراؤنڈ ہال کے ایک حصے کو آگ لگی گئی تھی۔‘‘

برسلز دھماکوں کی پہلی برسی

برسلز کے خود کش حملہ آور کا بھائی تیکوانڈو کا یورپی چیمپئن

صالح عبدالسلام نے عدالت میں چُپ سادھ لی

ملکی دفتر استغاثہ کے مطابق اس واقعے میں خود حملہ آور کے مارے جانے کے علاوہ کوئی اور جانی نقصان نہیں ہوا۔ اس حملہ آور کے سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہو جانے کی بیلجیم کے حکام نے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر بم دھماکے کے چند گھنٹے بعد تصدیق کر دی تھی۔

اس بارے میں بیلجیم کے وزیر داخلہ ژان ژامبون نے آج بدھ جون کو برسلز میں صحافیوں کو بتایا کہ ملکی سکیورٹی حکام نے اس مارے جانے والے شدت پسند کی شناخت مکمل کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس شدت پسند کی عمر 36 برس تھی اور وہ ایک مراکشی نژاد باشندہ تھا۔

Belgien Hausdurchsuchung nach Explosion am Zentralbahnhof in Brüssel

بیلجیم کی پولیس نے بدھ کے روز مراکشی نژاد شدت پسند کے گھر کی تلاشی بھی لی

آج ہی پولیس نے میولن بیک کے علاقے میں اس شدت پسند کے گھر پر چھاپہ مار کر تلاشی بھی لی۔ دفتر استغاثہ نے اس حملہ آور کا پورا نام ظاہر نہیں کیا۔ برسلز میں یہ بم حملہ برطانوی دارالحکومت لندن اور فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں پیش آنے والے دو علیحدہ علیحدہ واقعات کے محض ایک دن بعد کیا گیا تھا۔

پیرس میں پولیس پر حملے کی کوشش، حملہ آور ڈرائیور ہلاک

دہشت گردی کے ردعمل میں خوف اور نفرت ایک غلطی، یورپی کلیسا

پادری کا قتل: فرانس بھر کے مسلمان مسیحیوں کے غم میں شریک

ان حملوں میں سے ایک میں لندن کے علاقے فنزبری پارک کی ایک مسجد سے نماز تراویح پڑھ کر باہر نکلنے والے مسلمانوں پر ایک وین میں سوار ایک ملزم نے اپنی گاڑی چڑھا دی تھی۔ اس حملے میں، جسے حکام نے ایک مشتبہ دہشت گردانہ حملہ قرار دیا تھا، ایک شخص ہلاک اور دس دیگر زخمی ہو گئے تھے۔

دوسرے واقعے میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ایک مشتبہ عسکریت پسند نے، جس کا نام زیر نگرانی ممکنہ دہشت گردوں کی فہرست میں شامل تھا، اپنی ہتھیاروں سے بھری ہوئی گاڑی پولیس کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی تھی۔ یہ حملہ آور بھی فرانسیسی پولیس کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔

برسلز میں شہر کے ایئر پورٹ اور ایک میٹرو اسٹیشن پر مارچ 2016ء میں کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں 32 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس کے بعد سے شہر میں اب تک سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات