1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’برسلز حملوں پر بعض مسلمانوں نے خوشی منائی‘

بیلجیم کے وزیر اعظم شارل میشل نے اپنے وزیر داخلہ کے اس بیان کا دفاع کیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ برسلز حملوں پر مسلمان کمیونٹی کے ایک حصے نے مسرت کا اظہار کیا تھا۔

بیلجیم کے وزیر اعظم شال میشل نے کہا ہے کہ ایسے اشارے ملے ہیں کہ برسلز حملوں کے بعد بیلجیم میں کچھ مسلمانوں نے خوشی کا اظہار کیا تھا۔ اتوار کی رات گئے انہوں نے اپنے وزیر داخلہ یَن یمبون کا دفاع کرتے ہوئے مزید کہا کہ برسلز حملوں کی حمایت پر ’خوشی کے تاثرات‘ کے بارے میں نیشنل سکیورٹی کونسل کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔

بیلجین وزیر داخلہ یَن یمبون نے ایک روزنامے سے گفتگو میں کہا کہ برسلز حملوں کے بعد بیلجیم میں آباد مسلمانوں کی ایک مخصوص تعداد نے نہ صرف خوشی منائی بلکہ ڈانس بھی کیا۔ بائیس مارچ کو برسلز میں ہونے والے ان دہشت گردانہ حملوں میں کم از کم بتیس افراد مارے گئے تھے۔

یمبون کے اس بیان پر تنقید بھی کی گئی ہے، جبکہ کچھ سیاستدانوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ کوئی بیان دینے سے قبل ٹھوس شواہد فراہم کریں۔ دوسری طرف ان سے یہ تقاضا بھی کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اس بیان پر معافی مانگیں۔

بیلجین وزیر اعظم میشل کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں البتہ یمبون کے بیان کی تصدیق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں تصدیق کرتا ہوں کہ ان حملوں پر تائیدی تاثرات سامنے آئے ہیں تاہم ایسے لوگوں کی تعداد انتہائی کم ہے۔‘‘

میشل نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ہمیں اس حوالے سے نہ تو کوئی عمومی رائے قائم کرنا چاہیے اور نہ ہی اسے نظر انداز کرنا چاہیے۔‘‘ میشل نے کہا کہ وزیر داخلہ نے اس تناظر میں کوئی عمومی رائے سازی کی کوشش نہیں کی ہے۔

Brüssel Höchste Terrorwarnstufe Pressekonferenz Charles Michel und Jan Jambon

بیلجیم کے وزیر اعظم شال میشل (بائیں) اور وزیر داخلہ یَن یمبون ایک پیرس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

یمبون نے ’ڈے سٹینڈرڈ‘ نامی مقامی روزنامے سے گفتگو کرتے ہوئے ہفتے کے دن کہا تھا کہ ماضی میں حکومتوں نے کئی برسوں تک وارننگز کو نظر انداز کیا، اس لیے ہنگامی اقدامات بھی اس صورتحال کو فوری طور پر درست نہیں کر سکتے ہیں، ’’مسلمان کمیونٹی کے ایک حلقے نے برسلز حملوں پر رقص کیا۔۔۔ اور یہی افسوس کا مقام ہے اور ایک مسئلہ بھی ہے۔‘‘

یمبون کے مطابق، ’’دہشت گردوں کو پکڑا جا سکتا ہے اور انہیں ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن دہشت گرد صرف کیل محاسوں کی طرح ہیں، جس کے نیچے موجود پیچیدہ سرطانی مرض کا علاج کیا جانا ضروری ہے۔ ہم یہ کر سکتے ہیں تاہم یہ کام راتوں رات نہیں ہو سکتا۔‘‘

برسلز حملوں سے قبل سکیورٹی کی غلطیوں پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسی دوران وزیر داخلہ یَن یمبون اور وزیر انصاف کوئن خینز نے استعفے دینے کی پیشکش بھی کر دی تھی لیکن میشل نے ان کے استعفوں کو نامنظور کر دیا تھا۔