1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برا حجاب، دو ایرانی خواتین کودوسو ساٹھ ڈالر کا جرمانہ

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹس کے مطابق تہران کی ایک عدالت نے دو خواتین پر اسلامی ضابطہء لباس کی پابندی کرتے ہوئے حجاب نہ پہننے پر دوسوساٹھ ڈالر کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

اس مقدمے سے متعلق زیادہ تفصیلات نہیں دی گئی کہ اتنا جرمانہ کیوں لگایا گیا جو کہ کسی شخص کی ماہانہ اجرت کے برابر ہے۔

ایک مقامی اخبار نے ایک عدالتی اہلکار کا بیان نقل کرتے ہوئے لکھا ہے، ’حالیہ دنوں میں عدالت میں برا حجاب پہننے پر بہت سے مقد مے دائر ہوئے ہیں، جن میں سے دو ملزمان کو 9 ملین ایرانی ریال جرمانے کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔‘

ایک اور بیان میں ایک عدالتی اہلکار نے کہا ہے اب تک 73 رہائشی عمارتوں کے مالکان کو رات کی مخلوط پارٹیوں کے حوالے سے طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رات کی پارٹیوں کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کم ہے۔

عوامی مقامات میں تمام ایرانی خواتین کو ایسا اسکارف پہننا ہوتا ہے، جس سے ان کے سر اور گردنیں ڈھکی رہیں۔ حتی کہ ایران میں غیر ملکی خواتین کو بھی حجاب پہننا پڑتا ہے۔

Hijab Ausstellung in Teheran

ایران میں خواتین کو حجاب کی پابندی کرنا ہوتی ہے

لیکن سن انیس سو نوے کے درمیان ضابطہء لباس میں بتدریج نرمی کی گئی تھی باوجود اس کے کہ پولیس کی طرف سے اس کے نفاذ کے لیے مہمیں چلائی گئی تھی۔

شمالی تہران کی کچھ امیر آبادیوں میں بھی عورتوں کو حجاب میں دیکھنا کچھ غیر معمولی نہیں ہے ۔ بہت سی جوان لڑکیاں تنگ کپڑے اور چھوٹے کوٹ بھی پہنتی ہیں۔

2013 کے انتخابات میں نئے آنے والے اعتدال پسند صدر حسن روحانی نے کچھ سیاسی اور سماجی اصالاحات کرنی چاہی تھیں لیکن ایران کی باقی سیاسی انتطامیہ کی قدامت مسندی کی وجہ سے وہ ایسا نہیں کر پائے۔

اس ماہ کے شروع میں بھی ایران میں گاڑی چلانے والی خواتین کے لیے اسکارف پہننا لازم قرار دیا گیا تھا۔

تہران کے ٹریفک پولیس کے چیف جنرل تیمور حسینی نے کہا تھا، ’اگر گاڑی چلانے والی خواتین کو خراب حجاب یا بغیر حجاب کے دیکھا گیا تو قانون کے مطابق ان کی گاڑی قبضے میں لے لی جائے گی۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مرد اور خواتین کو اسلامی اقدار اور روایات کے پابند بنانے کے لیے پولیس لوگوں کی نجی زندگی میں بھی مداخلت کرتی ہے۔