1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

براہمداغ بگٹی کی حوالگی کے لیے، پاکستان کا سوئٹزرلینڈ سے رابطہ

پاکستان نے سوئٹزرلینڈ سے بلوچستان میں مسلح علیحدگی پسند تحریک کے لیڈر براہمداغ بگٹی کی حوالگی کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

default

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے ک مطابق براہمداغ بگٹی علیحدگی پسند جماعت ’بلوچ ریپبلیکن پارٹی‘ اور اس کے مسلح ونگ ’بلوچ ریپبلیکن آرمی‘ کے سربراہ ہیں۔ پاکستانی حکومت کی طرف سے اس تنظیم پر صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے نے پاکستانی نیوز پیپر ڈان کا حوالہ دیتے ہو لکھا ہے کہ پاکستانی حکام کی طرف سے سوئس حکومت کو براہمداغ بگٹی کے غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے ’ثبوت‘ فراہم کر دیے گئے تاہم سوئس حکومت نے پاکستان کی درخواست کا ابھی تک کوئی سرکاری طور پر جواب نہیں دیا۔

Nawab Akbar Khan Bugti

براہمدغ بگٹی قبائلی رہنما اور سابق صوبائی گورنر نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے ہیں

معدنی وسائل سے مالا مال لیکن غربت زدہ اور پسماندہ صوبہ بلوچستان میں علیحدگی پسند بلوچ ایک عرصے سے پر تشدد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وہاں کے قدرتی وسائل ان کے حوالے کیے جائیں۔ کئی برسوں سے اسلام آباد حکومت بلوچستان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث وہاں شورش پسندی نے جنم لیا ہے۔

30 سالہ براہمدغ بگٹی قبائلی رہنما اور سابق صوبائی گورنر نواب اکبر خان بگٹی کے پوتے ہیں۔ اکبر خان بگٹی اپنے قبائلی لوگوں کے حقوق کے لیے مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے تھے اور انہیں پاکستان کے سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

براہمداغ بگٹی وہ دوسرے بلوچ باغی ہیں، جن کی پاکستان  کسی مغربی ملک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی مخالفت کر رہا ہے۔ براہمداغ 2006ء میں نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد پاکستان سے فرار ہو گئے تھے۔ ڈی پی اے کے مطابق پہلے چار سال وہ افغانستان میں رہے، جس کی وجہ سے دونوں ہمسایہ ملکوں میں سفارتی کشیدگی پیدا ہو گئی تھی جبکہ اسلام آباد حکومت نے کابل سے ان کی حوالگی کا بھی کہا تھا۔

جرمن ایجنسی نے لکھا ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک نے براہمداغ کو گزشتہ برس اکتوبر میں سوئٹزرلینڈ پہنچنے میں مدد دی تھی۔ ان کی افغانستان میں موجودگی سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا تعاون متاثر ہو رہا تھا۔ ڈان نیوز کے مطابق براہمداغ بھارتی پاسپورٹ پر سفر کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ پہنچے تھے۔ پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے مابین مجرموں کی حوالگی کا کوئی بھی معاہدہ موجود نہیں ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM