1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’برانڈڈ شاپنگ‘ میں بھارت کسی سے کم نہیں

پرتعیش اور مشہور برانڈز کی اشیاء کی فروخت کی دوڑ میں، جہاں دنیا کی بڑی اقتصادی قووتیں سب سے آگے ہیں، وہیں گزشتہ چند برسوں میں امیر بھارتی شہریوں میں بھی برانڈڈ شاپنگ کا بڑھتا ہوا رجھان دیکھنے میں آیا ہے۔

default

گُچی اور شینیل سے لے کر پورشے اور فیراری کے ساتھ ساتھ تمام بڑے نام اس مارکیٹ میں موجود ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق 2015 تک بھارت میں پرتعیش اشیاء کی خرید و فروخت میں 20 فیصد سالانہ کا اضافہ ہوتا رہےگا جبکہ اب سے تقریباﹰ ایک دہائی پہلے بھارت میں معروف برانڈز کی خریداری بہت کم ہی ہوا کرتی تھی۔

بھارت کی آبادی ایک ارب سے زائد ہے اور اسی وجہ سے یہاں کی مارکیٹ بھی بہت وسیع ہے۔ بھارت کو مستقبل کا چین تصورکرنے والے تاجروں کو ابتدائی برسوں میں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا لیکن اب اس حوالے سے حالات میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ بھارت میں بہت سے افراد معروف برانڈز کو امارت کے نشان سمجھتے ہیں۔

اے ٹی کیئر نامی ایک کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق بنیادی ڈھانچے کی کمی، بہت زیادہ کرائے اور اضافی ٹیرف جیسی رکاوٹوں کے باوجود بھارت میں پرتعیش اشیاء کی فروخت 2010 میں 20 فیصد اضافے کے بعد 5.75 ارب تک پہنچ گئی تھی۔ اگر یہ اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2015 تک یہ متوقع طور پر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔

اے ٹی کیئرنے کے سربراہ نیلیش ہُندکاری کا کہنا تھا: ‘‘ہم پُرامید ہیں کہ یہ اضافہ اسی رفتار سے جاری رہے گا۔’’

بھارتی صارفین کی دلچسپی صرف ہینڈ بیگز، زیورات اور الیکٹرانکس تک ہی محدود نہیں ہے۔ یہاں کی اشرافیہ مہنگی گاڑیوں اور قیمتی شرابوں کے بھی کافی شوقین ہے۔ گُچی اور شینیل سے لے کر پورشے اور فیراری کے ساتھ ساتھ تمام بڑے نام اس مارکیٹ میں موجود ہیں۔ حال ہی میں دنیا کے مہنگے ترین برانڈز میں شمار ہونے والے فرانسسی ڈیزائنر ہرمیس نے بھارت میں اپنی ساڑھیوں کی محدودکلیکشن کا آغاز کیا۔ مشہور برطانوی کمپنی بربریز کے 8.5 ملین فیس بک کے پرستاروں میں سے تقریباﹰ پانچ لاکھ بھارتی ہیں۔

India Fashion Week - BdT

' یہ تو صرف آغاز ہے اور جلد ہی مارکیٹ میں ایک بڑا بوم آئے گا'

بوگٹیا اور کوّالی جیسے ڈیزائنرز کی اشیاء فروخت کرنے والے Genesis Luxury کے مینیجنگ ڈائریکٹر سنجے کپور کا کہنا ہے کہ یہ تو صرف آغاز ہے اور جلد ہی مارکیٹ میں ایک بڑا بوم آئے گا.

ہُندکاری کے مطابق ان برانڈز کے خریدار صرف دکھاوے کے لیے ہی اتنا پیسہ خرچ کرتے ہیں، ذاتی اطمینان کے لیے نہیں۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ‘‘سیاہ یا غیر قانونی پیسے’’ کی بڑی مقدار ان اخراجات کو برداشت کر رہی ہے۔

دنیا بھر میں کسٹم ڈیوٹی 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہوتی ہے، لیکن بھارت میں یہ بہت زیادہ ہے۔ بھارتی میں پرتعیش اشیاء کی درآمد پر 35-40 فیصد ڈیوٹی ادا کی جاتی ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں بھارت پر درآمدی سامان پر ٹیکس میں کمی لانے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

رپورٹ: عائشہ حسن

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس