1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

براستہ اٹلی یورپ آنے والے غیر قانونی تارکین وطن

سخت حفاظتی انتظامات کے باوجود بیرونی دنیا سے غیر قانونی مہاجرین اور غیر ملکی تارکین وطن بہت بڑی تعداد میں ہر سال یورپ کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے غیر ملکیوں کی اکثریت سمندری راستوں سے یورپی یونین میں داخل ہونے کی کوشش کرتی ہے۔

default

اٹلی کے راستے بہت بڑی تعداد میں لوگ یورپ میں داخل ہوتے ہیں

ان ہزارہا غیر ملکیوں میں سے بہت سے اپنے ارادوں میں کامیاب ہو بھی جاتے ہیں۔ لیکن مادی حوالے سے بہتر مستقبل کی امید میں کھچا کھچا بھری چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں طویل سمندری فاصلے طے کرنے والے ایسے سینکڑوں غیر ملکی ہر سال ڈوب کر ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔ ایسے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کی وجہ سے یورپی یونین میں سب سے برے حالات کا سامنا اطالوی جزیرے Lampedusa کو ہے۔

2008 کے اعدادوشمار

اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 2008 میں چھوٹی بڑی کشتیوں میں سوار 67 ہزارغیر قانونی تارکین وطن بحیرہ روم کے سمندری علاقے کو عبور کرنے میں کامیاب رہے تاکہ یورپ میں اپنے لئے ایک نئی زندگی کا آغاز کرسکیں۔ ان میں سےقریب 50 فیصد کے لئے بحیرہ روم کا اطالوی جزیرہ لامپے ڈوسا یورپ میں داخلے کا دروازہ ثابت ہوا تھا۔ یہ چھوٹا سا خطہ زمین اٹلی کا انتہائی جنوب میں واقع ایک ایسا جزیرہ ہے جو اطالوی جزیرے سسلی اور افریقہ میں تیونس کے عین درمیان میں واقع ہے۔

ایسے غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے کے لئے سال رواں کے آغاز پر اٹلی میں وزیر اعظم سلویو بیرلسکونی کی دائیں بازو کی قدامت پسند حکومت نے فوری قانون سازی کے ذریعے یہ فیصلہ کیا تھا کہ لامپے ڈوسا میں ایک ایسا ملک بدری مرکز قائم کیا جائے گا جہاں سے اطالوی سرزمین پر پہنچنے والے غیر قانونی مہاجرین کو واپس بھیجا جایا کرے گا۔ یہ فیصلہ روم حکومت کے نئی قانونی سازی کے اس متنازعہ پروگرام کا حصہ ہے جس کا مقصد اٹلی کے راستے غیر ملکیوں کی بلا اجازت یورپ میں آمد کو اور مشکل بنانا ہے۔

Flüchtlingsstrom nach Lampedusa reißt nicht ab

2008 میں چھوٹی بڑی کشتیوں میں سوار 67 ہزارغیر قانونی تارکین وطن بحیرہ روم کے سمندری علاقے کو عبور کرنے میں کامیاب رہے

شمالی افریقہ سے لامپے ڈوسا تک

یہ امر ابھی تک واضح نہیں ہے کہ اطالوی حکومت کے غیر قانونی تارکین وطن سے متعلقہ نئے قانون کی حتمی شکل کیا ہو گی۔ تاہم لامپے ڈوسا کے شہریوں کو اس کے ممکنہ نتائج کا سامنا ابھی سے کرنا پڑ رہا ہے۔ بحیرہ روم کے شفاف پانیوں کی لہریں لامپے ڈوسا کے ساحلوں سے ٹکرا رہی ہیں اور فضا میں آبی بگلوں کا شور بھی سنائی دے رہا ہے۔ ایسے میں ایک چھوٹی سی کشتی میں سوار 70 کے قریب غیر ملکی مہاجرین آہستہ آہستہ اس اطالوی جزیرے کے ساحل کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ وہ سب انتہائی تھکے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی اس وجہ سے بہت پرجوش نظر آرہے ہیں کہ ان کا لیبیا کے ساحلوں سے شروع ہونے والے وہ خطرناک سمندری سفر اب ختم ہونے کو ہے جس کے لئے ان میں سے ہر کسی نے انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے مختلف گروہوں کو فی کس کم ازکم 1500 امریکی ڈالر ادا کئے تھے۔

عالمی ادارہ برائے مہاجرین کا موقف

ایسے ہی غیر قانونی تارکین وطن کے بارے میں اٹلی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی ایک اعلیٰ عہدیدار باربرا مولیناریو کہتی ہیں: "صومالیہ اور اریٹریا سے آنے والے مہاجرین تو یورپ پہنچنے کے لئے دو دو سال تک سفر میں رہتے ہیں۔ انہیں اپنے اپنے ملکوں سے فرار کے بعد بار بار مختلف ملکوں اور شہروں میں رکنا پڑتا ہے۔ کوئی نہ کوئی کام کرکے وہ رقم کمانا پڑتی ہے جسے ادا کرکے وہ اپنے سفر کے تسلسل کو یقینی بناتے ہیں۔ بحیرہ روم کے پانیوں کو عبور کرنا ان کے طویل اور صبر آزما سفر کا اکثر آخری مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسے غیر قانونی تارکین وطن کے لئے سب سے خطرناک مرحلہ صحارا کے صحرائی علاقے کو کسی نہ کسی طرح پار کرنا ہوتا ہے۔ یورپ تک پہنچنے کے خواہش مند اکثر مہاجرین صحرائے صحارا کو عبور کرنے سے پہلے ہی بھوک اور پیاس کے ہاتھوں موت کے منہہ میں چلے جاتے ہیں۔ مجھے یہ بات بار بار سننے کو ملتی ہے کہ صحرا سمندر سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔"

Flüchtlingslager in Lampedusa

لامپے ڈوسا میں مہاجرین کا کیمپ بری طرح بھرا ہوا ہے

غیر قانونی مہاجرین یا سیاسی پناہ گزین

اطالوی سرزمین پر پہنچتے ہی لامپے ڈوسا کے جزیرے پر موجود حکام ایسے غیر ملکیوں کو دو حصوں میں تقسیم کردیتے ہیں۔ سیاہ فام افریقی جو عام طور پر سیاسی پناہ کی درخوا ستیں دینا چاہتے ہیں، انہیں سسلی کے جزیرے کے راستے ملک کے اندرونی حصوں میں بھجوا دیا جاتا ہے جبکہ شمالی افریقہ میں مغرب کی ریاستیں کہلانے والے ملکوں کے وہ شہری جنہیں غیر قانونی تارکین وطن سمجھا جاتا ہے، انہیں وہیں لامپے ڈوسا کے جزیرے پر ہی روک لیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی ایک خاتون اہلکار کارلوٹا سانتا روسا کہتی ہیں: "لامپے ڈوسا میں مہاجرین کا کیمپ بری طرح بھرا ہوا ہے۔ وہاں حفظان صحت کی سہولیات کی صورت حال بھی ناگفتہ بہ ہے۔ یہ بہت ہی مشکل ہے کہ یہاں پراتنی بڑی تعداد میں غیر ملکیوں کو طویل عرصے تک رکھا جاسکے۔ لیکن پورے اٹلی میں اس نوعیت کا کوئی دوسرا مرکز موجود ہی نہیں ہے۔"

عبوری نظر بندی کیمپ

لامپے ڈوسا کے جزیرے پرغیر ملکی مہاجرین کوبنیادی نوعیت کی امداد فراہم کرنے کے لئے قائم کیا گیا مرکز ایک ایسے عبوری نظر بندی کیمپ کا کام بھی دیتا ہے جہاں غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل ہونے والے غیر ملکیوں کو ان کی ملک بدری سے پہلے رکھا جاتا ہے۔ اس لئے کہ لامپے ڈوسا میں حکومت کا منظور کردہ باقاعدہ ملک بدری کیمپ ابھی تعمیر کیاجارہا ہے اور پہلے اگر اس عبوری نظر بندی کیمپ میں غیر قانونی تارکین وطن کو محض چند روز کے لئے رکھا جاتا تھا تو اب یہ مدت چھ ماہ تک بھی ہو سکتی ہے۔

Flüchtlingslager in Lampedusa

مہاجرین کی وجہ سے سیاح اب اس جزیرے کا کم ہی رخ کرتے ہیں

لامپے ڈوسا کو درپیش مسائل

اطالوی جزیرے لامپے ڈوسا کو بہت بڑی تعداد میں وہاں پہنچنے والے غیر ملکیوں کی وجہ سے کس طرح کے مسائل کا سامنا ہے، اس بارے میں لامپے ڈوسا کے میئر بیرنارڈینو روبیئس یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے حوالے سے انہیں ایسی صورت حال کا سامنا ہے جس سے وہ پوری کوشش کے باوجود بھی نکل نہیں پارہے۔ وہ روم حکومت کی تارکین وطن کی آمد اور ان کی ملک بدری سے متعلق سیاست کے حامی تو ہیں مگر یہ نہیں چاہتے کہ ملکی حکومت کی اس سیاست کا مرکز لامپے ڈوسا کا جزیرہ بنا رہے۔

میئر بیرنارڈینو روبیئس کہتے ہیں: "ہم اطالوی حکومت، یورپی یونین اور پوری دنیا کو یہ بتا چکے ہیں کہ ہم لامپےڈوسا کو کوئی ایسا جزیرہ نہیں بناناچاہتے جو پورے کا پورا کسی جیل میں تبدیل کردیا گیا ہو یا جس کی پہچان وہاں موجود وہ بہت بڑا نظر بندی مرکز ہو جہاں سے غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جاتا ہے۔ اس جزیرے پر ہماری آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ سیاحت کی صنعت ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس مسئلے کے حل کے لئے نتیجہ خیز مذاکرات عمل میں آئیں گے۔"

روم حکومت کو دھمکی

لامپے ڈوسا کے جزیرے پر مختلف ہوٹلوں اور ریستورانوں کے مالکان تو اپنے مطالبات منوانے کے لئے سینکڑوں میل دور بیٹھ کر فیصلے کرنے والی روم حکومت کو انتہائی اقدامات کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ اس لئے کہ اب اس اطالوی جزیرے کا رخ کرنے والے سیاحوں کی تعداد واضح طور پر کم ہو چکی ہے۔ اب وہاں جو غیر مقامی مہمان نظر آتے ہیں وہ ایک ہزار سے زائد ایسے اطالوی پولیس اہلکارا ور فوجی ہیں جو ان دنوں وہاں فرائض انجام دے رہے ہیں۔

Schwere Zeiten für Flüchtlinge in Italien auf Lampedusa

یورپی یونین میں سب سے برے حالات کا سامنا اطالوی جزیرے Lampedusa کو ہے۔

جرائم میں اضافے کی شکایت

لامپے ڈوسا شہر کے وسط میں تاریخی گرجا گھر میں صبح سویرے ہونے والی عبادت کے بعد چند برزگ مقامی خواتین اکثر وہاں رک جاتی ہیں۔ اکثر ان کی گفتگو کا موضوع وہ غریب اور مجبور غیرملکی ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں سمندری سفر کے بعد وہاں پہنچتے ہیں اور جنہیں مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن گذشتہ کچھ عرصے سے لامپے ڈوسا کے جزیرے پر مقامی باشندوں کی اس طرح کی بات چیت میں خواتین سے جنسی زیادتی، جسم فروشی اور منشیات کی خریدوفروخت کے واقعات کا ذکر بھی ہونے لگا ہے۔

مقامی باشندوں کی تشویش

لامپے ڈوسا ایک ایسا چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کی آبادی چھ ہزار سے بھی کم ہے۔ لیکن اب وہاں کے مقامی باشندوں میں اپنے ہی ماحول میں اجنبی ہوکر رہ جانے کا خوف بھی نظرآتا ہے اور اس بنا ء پر تشویش بھی کہ انسانوں کی سمگلنگ کرنے والے گروہوں اور غیر قانونی تارکین وطن کی وجہ سے جرائم کی شرح میں اضافہ بھی ہو چکا ہے حالانکہ روزمرہ کی زندگی میں خار دار تاروں کے پیچھے نظر بند غیر ملکی وہاں سر عام تو نظر نہیں آتے۔

ملک بدری کے مرکز کے خلاف درخواست

لامپے ڈوسا کے جزیرے پر وہاں کے مقامی جانوروں کی حفاظت کے لئے ایک قدرتی پارک بھی قائم ہے جس کی سربراہ گیوسی نکولینی وہاں انسانی حقوق کے احترام کے لئے آواز اٹھانے والے اس چھوٹے سے گروپ میں بھی شامل ہیں جس نے غیر ملکیوں کے اس deportation center کے خلاف ایک باقاعدہ درخواست بھی دے رکھی ہے۔ مقامی اور صوبائی حکام کے بعد یہ گروپ اپنی یہی درخواست اب روم اور برسلز میں متعلقہ ملکی اور یورپی حکام تک پہنچانے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔

گیوسی نکولینی کہتی ہیں: " یورپی یونین تحفظ ماحول کی کوششوں کو بڑی اہمیت دیتی ہے اور متاثرہ افراد کی شکایتیں بھی سنتی ہے۔ لیکن بات اگر غیر قانونی تارکین وطن کی ہو تو اطالوی حکومت کو مسئلے سے نمٹنے کے لئے ہر قسم کا اختیار حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لامپے ڈوسا کے معاملے میں یورپی یونین نہ تو غیر قانونی تارکین وطن اور مہاجرین کے انسانی حقوق پر کوئی توجہ دے رہی ہے اور نہ ہی اس بات پر کہ ان حالات میں مقامی باشندوں کے بنیادی حقوق کس طرح کے فیصلوں کے متقاضی ہیں۔"