1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برازیل: پہلی خاتون صدر کی سرکاری مصروفیات شروع

ہفتے کے روز اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والی برازیل کی نئی صدر ڈِلما روسیف نے اتوار سے باقاعدہ اپنی سرکاری مصروفیات کا آغاز کرتے ہوئے یوروگوائے، جنوبی کوریا اور پرتگال سمیت کئی ملکوں کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں۔

default

اِس طرح برازیل کی تاریخ میں ایک نئے عہد کا آغاز ہو گیا ہے۔ 63 سالہ ڈِلما روسیف عوام میں بے حد مقبول لُولا ڈا سِلوا کی جانشین بنی ہیں، جو آٹھ سال تک برسرِاقتدار رہنے کے بعد ملکی آئین کی رُو سے پھر ایک بار صدارت کے لئے اُمیدوار نہیں بن سکتے تھے۔

برازیل کی نئی صدر نے اپنے پیش رو اور سیاسی سرپرست لُولا ڈا سِلوا کو پُرتگیزی زبان میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئےکہا کہ وہ انتہائی جوش و جذبے کے ساتھ اپنے وطن اور قوم سے پیار کرتے تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ عہدہ سنبھالتے ہوئے وہ جو خوشی محسوس کر رہی ہیں، اُس کے ساتھ ساتھ وہ اُداسی بھی شامل ہے، جو اُنہیں لُولا ڈا سِلوا کو الوداع کہتے ہوئے ہو رہی ہے۔

Rio 2016 Logo Olympia

برازیل 2016ء کے اولمپک مقابلوں کا بھی میزبان ہے

برازیل کی تاریخ کے مقبول ترین صدر کے طور پر 65 سالہ لُولا ڈا سِلوا نے کئی اہم کام کئے، جن میں خاندان سے متعلق پالیسیاں اور غربت کے خاتمے کی حکمتِ عملی بھی شامل تھی۔ اُن کے دور میں برازیل کو معاشی استحکام ملا۔

سن 2010ء میں ملک کی اقتصادی ترقی میں اضافے کی شرح 7.6 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وہ 2014ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کی میزبانی بھی برازیل کے حصے میں لانے میں کامیاب ہوئے تاہم ابھی بہت کچھ کرنا باقی بھی ہے، جو اب نئی خاتون صدر کی ذمہ داریوں میں شامل ہو گا۔

اُنہیں 2014ء کے ورلڈ کپ سے پہلے پہلے ملک کو زیادہ محفوظ بنانا ہو گا۔ ریو ڈی جینیرو میں منشیات کا کاروبار کرنے والے جرائم پیشہ گروہوں کی سرکوبی میں ابھی حال ہی میں فوج نے بھی مدد کی۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ سابق صدر لُولا ڈا سِلوا کے کامیاب سماجی پروگراموں کے باوجود برازیل میں اب بھی کئی ملین انسان غربت کا شکار ہیں۔

Flash-Galerie Brasilien Rousseff Lula Präsidentenwahl

سابق صدر ایک جلسے میں موجودہ صد کے ہمراہ

برازیل کی نئی صدر نے عوام سے وعدہ کیا کہ وہ عوام کے لئے تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں بہتری لانے کی غرض سے ضروری اقدامات کریں گی اور خاص طور پر غربت اور اَفلاس کو ختم کرنے کے لئے کوششیں عمل میں لائیں گی۔ روسیف نے افراطِ زر پر قابو پانے کے اقدامات کا بھی وعدہ کیا ہے اور وہ ٹیکسوں کے شعبے میں بھی اصلاحات متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

صدر کے طور پر اپنی باقاعدہ مصروفیات کے پہلے روز ڈِلما روسیف نے یوروگوائے، جنوبی کوریا، پرتگال، فلسطینی انتظامیہ، کیوبا اور جاپان کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ روسیف کی کابینہ میں نو خواتین بھی شامل ہیں، جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM