1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برازیل میں قدیم مقامی باشندوں کا ’قتل عام‘

برازیل میں ملکی پارلیمان کے ارکان کے مطابق ملک کے وسطی مغربی علاقے میں گوآرانی کائیووا نسل کے قدیم مقامی باشندوں کو ختم کرنے کے لیے ان کا ’نسلی قتل عام‘ کیا جا رہا ہے۔

default

برازیلیہ سے ملنے والی رپورٹوں میں خبر ایجنسی اے ایف پی نے بتایا ہےکہ برازیل کی پارلیمان کے ارکان نے یہ بات بدھ کے روز کہی اور گوآرانی کائیووا نسل کے افراد ایسے قدیم مقامی باشندے ہیں، جو وسطی برازیل کے مغربی حصے کے استوائی جنگلات میں رہتے ہیں۔

برازیل میں قومی پارلیمان کی ایک کمیٹی ایسی بھی ہے، جو قدیم مقامی باشندوں اور انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال پر نظر رکھتی ہے۔ اس کمیٹی کے ارکان نے ابھی حال ہی میں ماتو گروسو دو سُول (Mato Grosso do Sul) نامی صوبے کا دورہ کیا۔ اس صوبے میں گوآرانی کائیووا نسل کے افراد ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں لیکن یہی صوبہ برازیل کے ایسے علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں مقامی لوگوں سے زبردستی ان کی زمینیں ہتھیانے والے گروہ سب سے زیادہ فعال ہیں۔

Dilma Rousseff Oktober 2011 Brüssel

برازیل کی خاتون صدر دلما روسیف

اس کمیٹی کے ارکان نے اپنے دورے کے بعد تیار کی گئی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گوآرانی کائیووا نسل کے قدیم باشندوں کے ’مجرمانہ قتل عام‘ کی سب سے بڑی وجہ وہ مسلح افراد ہیں، جو ان مقامی باشندوں سے ان کی زمینیں چھین لینا چاہتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس علاقے میں زمینیں ہتھیانے والے یا اپنی زمینوں کو قدیم مقامی باشندوں سے دوبارہ واپس لینے کے خواہش مند افراد اپنے مقاصد کے حصول کے لیے اپنے ہی انداز میں کام کرتے ہیں۔ وہ یا تو ایسے افراد کو قتل کر دیتے ہیں جن کے پاس ایسی زمینوں کا قبضہ ہوتا ہے یا پھر وہ مقامی انڈین آبادی کے ارکان کا قتل عام شروع کر دیتے ہیں۔

برازیلین پارلیمان کی اس کمیٹی کے ایک رکن ڈچ ماریٹن نے کہا کہ برازیل کے اس حصے میں قدیم مقامی آبادی کو ختم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’اس بارے میں خاتون صدر دلما روسیف کو فوری طور پر اور نتیجہ خیز مداخلت کرنی چاہیے‘۔

Bishop Kräutler Indigene aus der Amazon

برازیلین پارلیمان کی اس کمیٹی کے ایک رکن ڈچ ماریٹن نے کہا کہ برازیل کے اس حصے میں قدیم مقامی آبادی کو ختم کیا جا رہا ہے

پارلیمانی کمیٹی کے ارکان نے گوآرانی کائیووا نسل کے باشندوں کے رہائشی استوائی جنگلاتی علاقے کا دورہ اس لیے بھی کیا کہ گزشتہ ماہ نومبر میں ان قدیم انڈین باشندوں کے قبائلی سربراہ کو ایک درجن سے زائد مسلح نقاب پوش حملہ آوروں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اس علاقے میں زمین کی ملکیت سے متعلق تنازعات کی تاریخ عشروں پرانی ہے۔ یہ تنازعات اس وقت شروع ہوئے تھے، جب کائیووا باشندے اپنے آبائی علاقوں سے محروم ہو گئے تھے اور حکومت نے زرعی شعبے میں توسیع کے لیے انہیں نئی جگہوں پر آباد کرنا شروع کر دیا تھا۔

گوآرانی کائیووا باشندوں کی نمائندہ ایک خاتون روسانا کین گینگ نے کہا کہ برازیل کی حکومت ملک میں سن 2014 کے فٹ بال کے ورلڈ کپ مقابلوں کی تیاری پر تو بے تحاشا رقوم خرچ کر رہی ہے لیکن وہ قدیم مقامی باشندے جو اپنی زمینوں سے محروم ہو چکے ہیں، ان کو زر تلافی کی ادائیگی کے لیے کوئی قابل ذکر کوششیں نہیں کی جا رہیں۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس