1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برازیل میں سیلاب، ہلاکتیں 800 سے تجاوز کر گئیں

برازیل میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس قدرتی آفت سے چار سو افراد لاپتہ ہیں۔ حکام نے قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے وارننگ سسٹم لگانے کا اعلان بھی کیا ہے۔

default

برازیل میں حالیہ سیلاب کو وہاں کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔ برازیل کے روزنامہ O Globoکے مطابق اس آفت کے متاثر ہونے والے تین تہائی افراد کم عمر ہیں۔

حکومت متاثرہ علاقوں کی ہنگامی بحالی کے لیے 24 کروڑ ڈالر کی رقم مختص کر چکی ہے جبکہ غیرمحفوظ علاقوں میں قدرتی آفتوں کی پیشگی اطلاع دینے والا نظام لگانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لاشوں کی شن‍اخت کے بعد لاپتہ افراد کی تعداد بھی کم ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ تباہی کا اصل اندازہ تاحال نہیں لگایا جا سکا، جس سے آئندہ دِنوں میں مزید بری خبریں ملنے کا خدشہ پایا جاتا ہے۔ بعض دوردراز علاقوں تک صرف ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ہی رسائی ممکن ہے۔

سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے آنے والی اس آفت کو برازیل کی تاریخ کی سب سے بڑی تباہی قرار دیا جا رہا ہے۔ وہاں اس سے قبل 1967ء میں بھی مٹی کے تودے گرنے سے بڑی تباہی آئی تھی اور اس وقت ہلاکتوں کی تعداد 437 رہی تھی۔

Brasilien Erdrutsch Dilma Rousseff

برازیل کی صدر ڈلما روسیف ایک متاثرہ علاقے کے دورے کے موقع پر

خیال رہے کہ برازیل کے جنوب مشرقی علاقوں میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے یہ تباہی رواں ماہ کے شروع میں سامنے آئی، جس میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ریو ڈی جینیرو کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں ہوئیں۔

ابتدا میں حکام نے متاثرین کو گرجا گھروں اور اسکولوں جیسی محفوظ جگہوں پر پناہ لینے کی ہدایت کی تھی جبکہ بے یارومددگار متاثرین تک پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا استعمال شروع کر دیا گیا تھا۔

اس پہاڑی علاقے کی آبادیوں میں تباہی طوفانی بارشوں کے باعث مچی، جن کے نتیجے میں نشیبی آبادیوں پر مٹی کے تودے گرے جبکہ دریا بھی اُبل پڑے۔

متاثرہ علاقوں میں جہاں امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں، وہیں شرپسند عناصر نے لوٹ مار کا بازار بھی گرم کر دیا تھا، جس کے تناظر میں وہاں ملٹری پولیس تعینات کر دی گئی ہے۔ امدادی کارروائیوں میں فوج بھی حصہ لے رہی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس