1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برازیل میں بھی سیلاب، 270 سے زائد ہلاکتیں

برازیل کے جنوب مشرقی علاقوں میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد ڈھائی سو سے تجاوز کر گئی ہے۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں ریو ڈی جینیرو کے قریب ایک پہاڑی علاقے میں ہوئیں۔

default

برازیل کے شہر ریو ڈی جینیرو کے شمالی علاقے سیرانا میں منگل اور بدھ کو کم از کم 237 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔ شہری دفاع کے مقامی ادارے کے سربراہ رابرٹو روباڈے نے میڈیا کو بتایا کہ مرنے والوں میں تین امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔

برازیل کی وفاقی حکومت نے متاثرہ خطے کے لیے ہنگامی طور پر 42 کروڑ ڈالر کی مدد جاری کر دی ہے۔

اس پہاڑی علاقے کی آبادیوں میں تباہی طوفانی بارشوں کے باعث مچی، جن کے نتیجے میں نشیبی آبادیوں پر مٹی کے تودے گرے جبکہ دریا بھی اُبل پڑے۔

مرنے والوں کی تعداد میں بدھ کو ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ قبل ازیں مقامی حکام اور ذرائع ابلاغ نے کہا تھا کہ 170 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ صرف نووو فریبرگو کے علاقے میں ہی مرنے والوں کی تعداد سات کے بجائے 97 بنتی ہے۔ اس علاقے میں ٹیلی فون سسٹم اور سڑکوں کی تباہی کی وجہ سے اصل تباہی کی تصدیق میں دیر لگی۔

تیرےسوپولس کے علاقے میں 114 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ریاستی سیکریٹری برائے ماحولیات کارلوس مِنک کا کہنا ہے کہ تیرےسوپولس کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی تباہی ہے۔ اس علاقے کی آبادی ایک لاکھ 80 ہزار ہے اور اسے تاریخی اہمیت کا حامل علاقہ قرار دیا جاتا ہے۔

Brasilien / Erdrutsch / Teresopolis

مٹی کے تودے پھسلتے ہوئے گھروں پر آپڑے جبکہ پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا

تیرےسوپولس کے میئر یورگے ماریو کا کہنا ہے کہ صرف اسی علاقے میں ایک ہزار افراد بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ درجنوں پل اور سڑکیں تباہی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا ہے۔

حکام نے متاثرین کو گرجا گھروں اور اسکولوں جیسی محفوظ جگہوں پر پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بے یار و مددگار متاثرین کو نکالنے کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ سیرانا کے ہی اور قصبے پیتروپولس میں 18 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیموں کا پہنچنا بھی مشکل بنا ہوا تھا، تاہم بدھ ہی کو 800 سے زائد امدادی کارکن وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ وہاں کی رہائشی ایک 55 سالہ متاثرہ خاتون انجیلا نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا، ’میں نے ایسی تباہی اس سے پہلے صرف ٹیلی وژن پر دیکھی تھی۔ یہ مناظر کسی ڈراؤنی فلم کی طرح تھے۔ گھر، کاریں، یہ سب سیلابی ریلوں کے ساتھ بہہ گیا۔ یہ سب بہت خوفناک تھا۔‘

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس