1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برازیل: خاتون سیاستدان صدارتی الیکشن میں کامیاب

برازیل کی حکمران سیاسی جماعت ورکرز پارٹی کی امیدوار ڈِلما روسیف نے صدارتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اپنے مد مقابل امیدوار Jose Serra کو شکست دے کرکامیابی حاصل کر لی ہے۔

default

برازیل کی نومنتخب صدر: ڈِلما روسیف

برازیل کے صدر لولا ڈی سلوا کا شاندار آٹھ سالہ دور صدارت اپنے اختتام کے قریب پہنچ گیا ہے۔ ان کی سینیئر وزیر اور ماہر اقتصادیات ڈِلما روسیف کی کامیابی کا سرکاری اعلان کردیا گیا ہے۔ باسٹھ سالہ لیڈر کو ڈالے گئے ووٹوں میں سے چھپن فیصد سے زائد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ وہ برازیل کی پہلی منتخب خاتون صدر ہیں۔ وہ پہلی جنوری سن 2011 کو اپنا عہدہ سنبھالیں گی۔ ان کے نائب صدر Michel Temer ہوں گے۔ روسیف سُبکدوش ہونے والے صدر لولا ڈی سلوا کی چیف آف سٹاف تھیں جو وزیر اعظم کے مساوی عہدہ خیال کیا جاتا ہے۔

ڈِلما روسیف کی کامیابی کو برازیل کی جدید اقتصادی ترقی کے پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے خیال میں روسیف کا دور صدارت، منصب صدارت سے فارغ ہونے والے صدر لولا ڈی سلوا کی اقتصادی پالیسیوں کا تسلسل ہو گا۔ ڈی سلوا کے دور حکومت ہی میں برازیل کا اقتصادی عروج شروع ہوا ہے۔ اسی باعث اب وہ عالمی سطح پراہمیت کی حامل ابھرتی اقتصادی قوت خیال کیا جاتا ہے۔

روسیف کے بعض ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ وہ برسراقتدار آ کر کفایت شعاری کے خصوصی پلان کو عمل میں لائیں گی۔ اس پلان کے تحت کئی

Brasilien / Rousseff / Präsidentschaft / NO-FLASH

نو منتخب صدر کامیابی کے بعد

مدوں میں کٹوتیاں شامل ہیں جس سے سرکاری اور نجی حلقوں میں ہلچل پیدا ہونا یقینی ہے۔ اس مناسبت سے نو منتخب صدر پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ ان کا سردست ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ روسیف نے اس قیاس کی مزید تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت برازیل میں افراط زر کی شرح کو پوری طرح کنٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی حیران کن اضافہ ہو چکا ہے لہذا کٹوتیوں کی بات درست نہیں۔

برازیل کی اقتصادی صورت حال ہمسایہ اور کئی دوسرے ملکوں کے لئے ایک ماڈل ہے۔ عوامی سطح پر مالی اعتبار سے آسودہ حال ہونے کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید بڑھ گئی ہے۔ ڈی سلوا کے آٹھ سالہ دور کے دوران خاص طور پر شمال مشرق کے دور افتادہ اور انتہائی پسماندہ و غریب گھروں تک بجلی پہنچانے کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔ صدارتی الیکشن کے دوران اقتصادی ترقی کی وجہ سے عام ووٹرز نے روسیف کی سیاسی جماعت ورکرز پارٹی کے کارکنوں کی بدعنوانیوں کو پس پشت ڈال دیا تھا وگرنہ ان کے مخالف امیدوار Jose Serra نے اس معاملےکوخاص طور پراٹھایا تھا۔

اسی اقتصادی ترقی کی وجہ سے برازیل کو دو عالمی کھیلوں کے مقابلوں کی میزبانی حاصل ہوئی ہے۔ ان میں ایک فٹ بال کا سن 2014 میں ہونے والا عالمی کپ ہے اور دوسرا سن 2016 کے گرمائی اولمپک کھیل ہیں۔ ان دونوں مقابلوں کی میزبانی کو برازیل اور اور خطے میں نہایت اہم قرار دیا جاچکا ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس