1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

برازیل، بھارت اور جنوبی افریقہ کا شام کے لیےخصوصی مشن

عرب ملک شام میں حکومت مخالف جمہوریت نوازوں کے خلاف سکیورٹی فورسز کے زوردار کریک ڈاؤن کو ختم کروانے کے سلسلے میں بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ کا ایک مشترکہ امن مشن دمشق میں آج سے مذاکرات شروع کر رہا ہے۔

default

عالمی منظر پر ابھرتی تین اقتصادی طاقتوں نے اپنے فورم IBSA کے تحت شام میں پیدا شدہ صورت حال میں بہتری کی کوششوں کا اعلان کیا ہے۔ ان تین اقوام میں بھارت، برازیل اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ ان تینوں ملکوں کی خواہش ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان مکالمت کے سلسلے کو شروع کرنے کی مناسبت سے فریقین کو قائل کیا جائے۔ اس کوشش کا اعلان برازیل کی وزارت خارجہ کی جانب سے کیا گیا ہے۔

برازیل کے نمائندے کے طور پر وزیر خارجہ پہلے ہی شام کے دارالحکومت دمشق میں موجود ہیں۔ برازیل کے وزیر خارجہ بھارتی اور جنوبی افریقی وزرائے خارجہ کے نمائندوں کے ہمراہ شامی وزیر خارجہ ولید المعلم کے ساتھ آج بدھ کے روز ملاقات کریں گے۔ بھارتی وزیر خارجہ کی نمائندگی کے لیے بھارت سے خصوصی نمائندے کی شام روانگی اور آج کی ملاقات کی تصدیق نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان وشنو پرکاش نے کردی ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے اعلیٰ افسر ایڈیشنل سیکرٹری دلیپ سنہا کو دمشق روانہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح جنوبی افریقی وزارت خارجہ نے اس ملاقات میں شرکت کی تصدیق اپنی ویب سائٹ پر جاری کی ہے۔

NO FLASH Syrien Proteste

شام میں رمضان کے مہینے میں رات کے وقت بھی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

دوسری جانب شام کے صدر بشار الاسد نے اپنے نائب وزیر خارجہ فیصل مقداد کو اپنے علاقائی خطے کے دورے پر روانہ کیا ہے۔ اسد حکومت کی خواہش ہے کہ ملک کے اندر پیدا شدہ سیاسی افراتفری اور شدت اختیار کرتے بحران کے حوالے سے حکومتی نکتہ نگاہ کو قریبی ممالک تک پہنچایا جائے۔ فیصل مقداد گزشتہ ہفتہ کے دوران بھارت کا تین روزہ دورہ مکمل کر چکے ہیں۔ مقداد پچھلے دنوں جنوبی افریقہ میں تھے اور وہاں اپنے ہم منصب ابراہیم اسماعیل ابراہیم سے اپنے ملک شام کی اندرونی صورت حال کو ڈسکس کیا تھا۔

شام کی صورت حال پر بات چیت کرنے والے بھارتی، برازیلی اور جنوبی افریقی وفد کو ابھرتی اقتصادیات کے پانچ ملکی گروپ برکس (BRICS) کا بھی نمائندہ وفد خیال کیا جا رہا ہے۔ برکس کے گروپ میں جنوبی افریقہ، بھارت اور برازیل کے علاوہ روس اور چین شامل ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس