1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

برازیل اسٹریٹ چلڈرن ورلڈ گیمز میں پاکستانی ٹیم بہترین قرار پائی

برازیل میں منعقد کیے گئے اسٹریٹ چلڈرن ورلڈ گیمز میں تیرہ تمغوں کے ساتھ پاکستان کا نام روشن کرنے والے کھلاڑی وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس گیمز میں پاکستانی ٹیم بہترین قرار پائی۔

برازیل کے دارالحکومت ریو ڈی جینرو میں ہونے والے ان مقابلوں میں پاکستان سمیت دنیا کے گیارہ ممالک کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ 14 سے 22 مارچ تک جاری رہنے والے ان کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے چار کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیم نے ان کھیلوں میں شرکت کی۔ یہ چاروں کھلاڑی، سڑکوں پر زندگی گزارنے والے بچوں کی بحالی کے لیے کام کرنے والے آزاد فاؤنڈیشن نامی ایک غیر سرکاری فلاحی ادارے کی جانب سے ان مقابلوں میں حصہ لے رہے تھے۔

Brasilien Rio Street Kids Games

ان کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے چھ ایتھلیٹکس گیمز میں حصہ لیا گیا


ان کھیلوں کے انعقاد کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آزاد فاؤنڈیشن کے مینیجرعرفان مقبول نے بتایا کہ، ’’اسٹریٹ چائلڈ گیمز اسٹریٹ چلڈرن یونائٹڈ کی جانب سے معنقد کیا گیا۔ یہ ایک طرح سے اسڑیٹ چلڈرن کے لیے اولمپکس گیمز کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے چھ ایتھلیٹکس گیمز میں حصہ لیا گیا۔ ان میں 100 میٹر ہرڈل، 100 میٹر، 400 میٹر، براڈ جمپ، ریلے ریس اور شاٹ پٹ شامل تھے۔‘‘


عرفان مقبول نے بتایا کہ ان گیمز میں پاکستان چار گولڈ میڈلز لینے میں کامیاب ہوا، ’’ اس کے علاوہ چار کانسی کے تمغے اور پانچ چاندی کے تمغے بھی پاکستان کے حصے میں آئے۔ ان کھیلوں میں سب سے زیادہ سونے کے تمغے محمد نعیم نامی کھلاڑی نے جیتے۔ لڑکوں کی 100میٹر دوڑ میں پاکستان کے محمد نعیم نے گولڈ میڈل جیتا۔ مہر علی نے سلورجبکہ نصیر نے برونز میڈل اپنے نام کیا۔ 400 میٹر دوڑ میں پاکستان کے نعیم سب سے آگے رہے اور گولڈ میڈل جیتا۔ مہر اور نصیر نے چاندی اور کانسی کے تمغے جیتے۔ 100 میٹر ہرڈلزمیں پاکستان کے نصیر نے چاندی اور مہر نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ لانگ جمپ میں نعیم نے گولڈ میڈل اور مہر نے برونز میڈل لے کرنام کمایا ۔‘‘

Brasilien Rio Street Kids Games

میٹر ہرڈلزمیں پاکستان کے نصیر نے چاندی اور مہر نے کانسی کا تمغہ حاصل کیا


وطن واپسی پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد نعیم کافی خوش نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ ان کھیلوں میں جیتنے کے بعد وہ بے حد خوش ہوں۔ ’’مجھے محسوس ہو رہا ہے جیسے میں یہ احساس دلا سکا ہوں کہ ہم سڑکوں پر سابقہ زندگی گزارنے والے بچے بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ ان کھیلوں میں اپنے ملک کے لیے تمغے لے کر اس کا نام روشن کرنے میں میں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔‘‘


عرفان مقبول کے مطابق گو کہ ان بچوں کا تعلق نہایت پسماندہ علاقوں سے ہے اور اپنے خاندانوں کے کفیل ہیں، اس کے باوجود یہ دنیا کو احساس دلانے اور یہ سافٹ امیج دیکھانے میں کامیاب ہوئے کہ اگر موقع دیا جائے تو یہ کسی سے کم نہیں۔


DW.COM