1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بد ترین لوڈ شیڈنگ، پنجاب بھر میں احتجاجی مظاہرے

پاکستان میں بجلی کی بد ترین لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ سب سے زیادہ پریشان کن صورتحال ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی ہے، جہاں بعض علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بارہ سے اٹھارہ گھنٹے تک بتایا جا رہا ہے۔

default

پاکستان کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج جاری ہے۔ کئی مقامات پر واپڈا کے دفاتر پر حملوں، سرکاری گاڑیاں نذر آتش اور سڑکیں بند کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔

لاہور میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ آج پیر کے روز بھی جاری رہا۔ مال روڈ پر تاجروں نے احتجاج کیا جبکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین نے  وزیر اعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز کی قیادت میںشہریوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ مسلم مسجد سے ایک بڑی احتجاجی  ریلی بھی نکالی۔ لاہور میں احتجاج کرنے والے دو ہزارسے زائد لوگوں کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

Pakistan Protest

لاہور میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ آج پیر کے روز بھی جاری رہا

ادھر بھیرہ کے قریب احتجاجی مظاہرین نے لاہور اسلام آباد موٹر وے کو بند کر رکھا ہے جبکہ گجرات میں مظاہرین نے جی ٹی روڈ بھی بند رکھی، گوجرانوالہ میں احتجاجی مظاہرین نے گیپکو کے دفتر پر حملہ کرنے کے علاوہ جعفر ایکسپریس پر پتھراؤ بھی کیا۔

Überflutung in Pakistan

فیصل آباد اور سرگودھا میں شٹر ڈاؤن ہڑتال ہے۔ کئی دوسرے شہروں سے بھی احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ سرکاری حکام کے مطابق بجلی کی کمی ساڑھے چھ ہزار میگا واٹ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ غیر سرکاری حلقے یہ کمی آٹھ ہزار میگا واٹ کے قریب بتا رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بجلی کی یہ کمی حقیقی نہیں ہے اور لاہوراور پنجاب میں جان بوجھ کر زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ایک صارف عبدالحمید نے بتایا کہ بجلی دستیاب نہ ہونے سے عام شہریوں کی زندگی کا معمول بالکل خراب ہو چکا ہے۔ ’’اس وجہ سے نلوں میں پانی بھی نہیں آتا، بچے پڑھائی نہیں کر سکتے، ساری رات جاگ کر گزارتے ہیں۔‘‘ ایک اور صارف ندیم کے مطابق سب سے بری حالت ڈینگی کے مریضوں کی ہے۔ ان کے بقول ہسپتالوں کی مشینری اور ادویات بجلی نہ ہونے سے خراب ہو رہی ہیں۔

Überflutung in Pakistan Flash-Galerie

ادھر آل پاکستان  ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل انیس احمد کا کہنا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے فیکٹریاں اس وقت صرف پچاس فیصد صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔ کئی ایکسپورٹ آرڈر منسوخ ہو چکے ہیں اور کنٹریکٹ پر کام کرنے والے کارکنوں کی چھانٹیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔

رپورٹ : تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM