1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بدھا ہوتے تو روہنگیا کی مدد کر رہے ہوتے، دلائی لامہ

تبتی بدھ بھکشوؤں کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے روہنگیا بحران پر پہلی دفعہ بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس وقت بدھا موجود ہوتے، تو وہ روہنگیا مسلمانوں کی مدد کر رہے ہوتے۔

دلائی لامہ نے کہا کہ تشدد کی وجہ سے فرار ہونے والے معصوم مسلمان روہنگیا کی مدد کی جانا چاہیے کیوں کہ بدھ مت کی تعلیم یہی ہے۔ واضح رہے کہ میانمار کی شمال مغربی ریاست راکھین میں جاری تشدد میں وہ شدت پسند بدھ پیش پیش ہیں، جو ایک طویل عرصے سے وہاں آباد مسلم اقلیت روہنگیا پر مبینہ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

روہنگیا جن کی اکثریت کے پاس میانمار کی شہریت تک نہیں، تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد بڑی تعداد میں راکھین سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچ چکی ہے۔

پاکستان میں لاکھوں روہنگیا میانمار کے حالات پر تشویش کا شکار

روہنگیا باغیوں کی طرف سے جنگ بندی کا اعلان

نوبل امن انعام یافتگان کی جانب سے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر جاری تشدد کی مذمت کرنے والوں میں دلائی لامہ ایک اضافہ ہیں۔  اس سے قبل ملالہ یوسف زئی، ڈیسمنڈ ٹوٹو اور شیریں عبادی اس تشدد کی کڑی مذمت کر چکے ہیں۔

میانمار میں اقوام متحدہ کے خصوصی مبصرین کے مطابق راکھین میں جاری تشدد کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔

دلائی لامہ نے جمعے کے روز صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’’وہ لوگ جو مسلمانوں کو دھمکا رہیں ہیں، انہیں بدھا کے بارے میں سوچنا چاہیے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’ایسی حالت میں بدھا نے یقیناﹰ ان غریب مسلمانوں کی مدد کی ہوتی۔ میں اس بابت بے انتہا دکھ محسوس کر رہا ہوں۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 01:07

روہنگیا مہاجرین کو بنگلہ دیش میں بھوک اور پیاس کا سامنا

یہ بات اہم ہے کہ میانمار کی اکثریت بدھ مت کے ماننے والوں کی ہے، جب کہ وہاں روہنگیا مسلمانوں کی بابت شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ روہنگیا کو میانمار میں ’غیرقانونی تارکین وطن بنگالی‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد میں بدھ مت سے وابستہ قوم پرست بھکشو آگے آگے ہیں، جو ایک طویل عرصے سے ’اسلام کو خطرہ‘ قرار دے کر روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے سامنے نہ آنےپر عالمی سطح پر انہیں بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

نوبل امن انعام یافتہ آرچ بشپ توتو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں سوچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا، ’’اگر اس تشدد کو روکنے کے لیے آواز اٹھانے کی راہ میں آپ کا سیاسی عہدہ آڑے آ رہا ہے، تو آپ اس عہدے کے لیے بہت بھاری قیمت ادا کر رہی ہیں۔‘‘

DW.COM

Audios and videos on the topic