1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

’بدھا کے قدم‘ پاکستان کو لوٹا دیے گئے

گوتم بدھ کے پیروں کے نشانات کا پتھر سے بنا ایک تاریخی اسکلپچر پاکستان کو لوٹا دیا گیا ہے۔ یہ اسکلپچر امریکا اسمگل کیا گیا تھا جہاں اس کی فروخت ایک ملین امریکی ڈالرز سے بھی زائد میں متوقع تھی۔

اس تاریخی نقش کو ’بُدھا پاڈا‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ پتھر پر نقش پاؤں کا یہ اسکلپچر کئی دہائیاں قبل پاکستان سے امریکا اسمگل کیا گیا تھا۔ بدھ 27 اپریل کو نیویارک کے سرکاری وکلاء کی جانب سے یہ اسکلپچر پاکستانی مشن کے نائب سربراہ رضوان سعید شیخ کے حوالے کیا گیا۔ رضوان سعید کا کہنا تھا کہ یہ اسکلپچر فی الحال کچھ عرصہ نیویارک ہی میں رہے گا اور شاید ایک عجائب گھر میں اس کی نمائش بھی کی جائے۔

رضوان سعید شیخ کے مطابق قریب 500 پاؤنڈز وزنی بدھاپاڈا پاکستان کی ثقافتی تاریخ کا ایک اہم جزو ہے۔ انہوں نے یہ تاریخی نقش کو پاکستانی حکومت کو لوٹائے جانے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

تاریخی اشیاء کا کاروبار کرنے والے ایک جاپانی ڈیلر نے گزشتہ ماہ اس چوری شدہ نقش کو امریکا اسمگل کرنے کے جرم کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ ٹاٹسوزو کاکو نے یہ ذمہ داری پانچ ہزار ڈالر کے جرمانے اور ایک خاص دورانیے کے لیے رضاکارانہ طور پر امریکا چھوڑنے کے بدلے قبول کی۔ کاکو کا کہنا تھا کہ اُس نے دوسری صدی عیسوی کا یہ اسکلپچر ٹوکیو سے نیویارک منتقل کیا تھا جہاں اُس نے ایک گیلری کو 1.1 ملین ڈالرز کی متوقع قیمت کے عوض فروخت کرنا تھا۔

یونیسکو نے امریکی فنڈنگ سے ایک پروگرام شروع کیا ہوا ہے جس کا مقصد اس علاقے سے ملنے والے بدھا سے متعلق مجسموں اور دیگر تاریخی اشیاء کو محفوظ بنانا ہے

یونیسکو نے امریکی فنڈنگ سے ایک پروگرام شروع کیا ہوا ہے جس کا مقصد اس علاقے سے ملنے والے بدھا سے متعلق مجسموں اور دیگر تاریخی اشیاء کو محفوظ بنانا ہے

اس جاپانی ڈیلر کے مطابق وہ اس بات سے آگاہ تھا کہ اس نقش کو پاکستان کی وادی سوات میں 1982ء میں ایک کھدائی کے دوران نکالا گیا تھا۔ اس نے عدالت کو بتایا کہ اس کے اس عمل کا مقصد جہاں ایک طرف پیسہ کمانا تھا وہاں یہ خواہش بھی تھی کہ اس جیسے تاریخی اور اہم اسکلپچر کو محفوظ بنایا جائے، کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اگر یہ پاکستان میں رہتا تو ضائع ہو سکتا ہے۔

تاہم تاریخ دانوں اور اسکالرز کا کہنا ہے کہ یہ دلیل درست نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو نے ایک دہائی سے بھی زائد عرصے سے امریکی فنڈنگ سے ایک پروگرام شروع کیا ہوا ہے جس کا مقصد اس علاقے سے ملنے والے بدھا سے متعلق مجسموں اور دیگر تاریخی اشیاء کو محفوظ بنانا ہے۔

پاکستان کی ہزارہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر محمد ظاہر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ جس عرصے میں ’بدھا پاڈا‘ کو چرایا گیا اس وقت پاکستان میں تاریخی مقامات کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔ محمد ظاہر کے مطابق یہاں تک کہ جب 2009ء میں طالبان کا اس وادی میں کنٹرول تھا، پاکستانی حکومت کا منصوبہ تھا کہ بدھا آرٹ اور دیگر تاریخی اشیاء کو یہاں کے عجائب گھر سے نکال کر محفوظ کیا جائے۔