1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بدنام زمانہ دہشت گرد کارلوس پھر عدالت ميں

سرد جنگ کے دور ميں دہشت گردانہ حملوں کے ماسٹر مائنڈ کارلوس پر ايک اور مقدمہ قائم کر ديا گيا ہے۔ اس بار اُس پر تين عشرے قبل فرانس ميں چار مہلک حملے کرنے کا الزام ہے۔

کارلوس

کارلوس

62 سالہ کارلوس وينيزويلا کا شہری ہے اور اُس کا اصل نام راميريزسانچيس ہے۔ اسے پيرس ميں دہشت گردی کے جرائم کی خصوصی عدالت ميں پيش کيا گيا۔ وہ پہلے ہی سن 1975 ميں تين قتل کرنے پر عمر قيد کی سزا بھگت رہا ہے۔

سرد جنگ کے زمانے ميں مغربی يورپ اور مشرق وسطٰی کے ممالک ميں خوف و دہشت پھيلانے والے راميريس پر اسً مرتبہ سن 1982 اور سن 1983 ميں فرانس ميں چار حملوں کا الزام ہے، جن ميں 11 افراد ہلاک اور 140 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ راميريز عرف کارلوس نے ان حملوں ميں کسی بھی قسم کی شرکت سے مکمل طور پر انکار کيا ہے۔ مقدمے کی کارروائی چھ ہفتوں تک جاری رہنے کا امکان ہے اور اگر جرم ثابت ہو جاتا ہے تو اُسے دوسری بار عمر قيد کی سزا مل سکتی ہے جو کہ فرانس ميں سب سے شديد سزا ہے کيونکہ فرانس ميں سزائے موت نہيں ہے۔

کارلوس نيلی جيکٹ ميں ملبوس مسکراتا ہوا کمرہء عدالت ميں داخل ہوا اور اُس نے اپنا تعارف ايک ’پيشہ ور انقلابی‘ کی حيثيت سے کرايا۔ اُس کی وکيل ايزابيل کوتانت نے کہا کہ وہ ہميشہ کی طرح لڑاکا موڈ ميں ہے۔ وکيل نے کہا کہ 30 سال گذر جانے کے بعد اس مقدمے کی کوئی وجہ نہيں ہے۔ انہوں نے فرانس کے استغاثہ پر الزام لگايا کہ راميرس پر اس مقدمے کی اصل وجہ انصاف نہيں بلکہ پروپيگنڈہ يا کچھ اور ہے۔ ليکن کيس کے کچھ نجی فريقوں کے وکيل فرانسس اسپينر نے کہا کہ يہ اس ليے اہم ہے تاکہ يہ دکھايا جا سکے کہ دہشت گردوں کا ہميشہ تعاقب کيا جائے گا اور وہ سزا سے بچ نہيں سکيں گے۔

پيرس کی عدالت کے سامنے پوليس کا پہرہ

پيرس کی عدالت کے سامنے پوليس کا پہرہ

اس مقدمے کا محور بم کے چار حملے ہيں: دو حملے جو فرانسيسی ٹرينوں پر کيے گئے تھے۔ ايک اور حملہ پيرس ميں عربی زبان کے ايک اخبار کے دفتر پر ہوا تھا اور چوتھا حملہ مغربی برلن ميں ايک فرانسيسی ثقافتی مرکز پر کيا گيا تھا۔

کارلوس سن 1975 ميں دو فرانسيسی سيکرٹ ايجنٹس کے قتل پر عمر قيد کی سزا کاٹ رہا ہے۔ وہ سن 1975 ہی ميں اوپيک کے وزرائے تيل کے ايک اجلاس کے موقع پر يرغمال بنانے کی واردات کا بھی مرکزی مشتبہ فرد ہے۔ اس حملے ميں تين افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

فرانسيسی حکام کا کہنا ہے کہ سن 1982 ميں دو حملے اُس نے اپنی دوست ماگڈےلينا کوپ کی رہائی کے ليے فرانسيسی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے ليے کيے تھے۔ فرانس کے شہر تولوز سے پيرس جانے والی ٹرين پر سن 1982 کے حملے ميں پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سے پانچ سال بعد ہالينڈ ميں فرانسيسی سفارتخانے کو کوپ کی رہائی کے مطالبے والا خط ملا تھا، جس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ اُس پر کارلوس کے فنگر پرنٹس تھے۔

کارلوس کی وکيل ايزابيل

کارلوس کی وکيل ايزابيل

وينيزويلا کے صدر اُوگو شاويز نے کہا ہے کہ فرانس ميں مقدمے کے دوران ويننزويلا کے شہری راميريس کے حقوق کا احترام کيا جانا چاہيے۔ انہوں نے يہ بھی کہا کہ وہ راميريس کو دہشت گرد نہيں بلکہ ايک انقلابی لڑاکا سمجھتے ہيں۔

راميريس کے بارے ميں کہا جاتا ہے کہ اُس نے برسوں تک ايک کرائے کے فوجی کے طور پر ہائی جيکنگ، بم حملے اور قتل کی وارداتيں کيں اور اُس کے فلسطين کی آزادی کے پاپولر فرنٹ اور دوسری عالمی جنگ کے بعد کے کميونسٹ اور مغربی دنيا کے درميان سياسی، فوجی اور اقتصادی کشيدگی کے زمانے ميں يورپ کے انتہائی بائيں بازو کے دہشت گرد گروہوں سے بھی روابط تھے۔ فرانسيسی سيکرٹ ايجنٹس نے 14 اگست سن 1994 کو اُسے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کی ايک پناہ گاہ سے پکڑ کر ايک بوری ميں بند کرکے پيرس پہنچايا تھا۔

رپورٹ: شہاب احمد صديقی / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

ویب لنکس