1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بدلہ ضرور لیں گے: جنوبی کوریا

جنوبی کوریا کے میرین کمانڈر نے عہد کیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جارحانہ عمل کا بدلہ لیں گے۔ شمالی کوریائی افواج کی طرف سے عسکری کارروائی کے نتیجے میں اسی ہفتے جنوبی کوریا کے دو فوجی جبکہ اتنے ہی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

default

جنوبی کوریا کے ان دو فوجیوں کو اعلیٰ اعزاز کے ساتھ دفنا دیا گیا، جو شمالی کوریا کی عسکری کارروائی میں ہلاک ہوئے تھے

جنوبی کوریا کے صدر Lee Myung-bak نے اپنے وزراء اور دیگر ساتھیوں کو خبردار کیا ہے کہ شمالی کوریا مستقبل میں اشتعال انگیزی کے مزید اقدامات اٹھا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد اس طرح کا خطرہ کافی زیادہ ہے۔ جنوبی کوریا اور امریکہ اتوار سے مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کررہے ہیں۔

صدرLee Myung-bak نے کہا،’ اس بات کا امکان ہے کہ شمالی کوریا مزید غیر متوقع ایکشن لے، اس لئے ہمیں بھر پور طریقے سے تیار رہنا چاہئے۔‘

NO FLASH nordkoreanischen Beschuss der südkoreanischen Insel Yonpyong

منگل کو شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین ہونے والی گولہ باری سن 1953ء کی جنگ کے بعد سے اب تک کی شدید ترین جھڑپ ہے

پیونگ گیانگ حکومت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ عسکری مشقیں جزیزہ نما کوریا کو جنگ کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ ان مشقوں سے قبل ہی ییونگ گیانگ حکومت نے کہا ہے کہ جنوبی کوریائی افواج کی طرف سے کسی بھی فوجی ایکشن کی صورت میں بھرپور جواب دیا جائے گا۔

دریں اثناء ان دو فوجیوں کو ایک پروقارتقریب میں دفنا دیا گیا ہے، جو منگل کو شمالی کوریائی عسکری کارروائی کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس تقریب میں وزیر اعظم سمیت کئی دیگراعلی حکومتی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پرجنوبی کوریائی میرین افواج کے سربرہ لیفٹیننٹ جنرل Yoo Nak Joon نے کہا کہ ان کی افواج شمالی کوریا کے اس جارحانہ ایکشن کا بدلہ ضرور لے گی۔

جنوبی کوریا نے بحیرہ زرد کی متنازعہ سمندری حدود میں واقع جزیرے یون پیونگ میں اپنی افواج کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔ سیئول حکام کے مطابق اگر شمالی کوریا نے دوبارہ ایسی حرکت کی تو زبردست جوابی کارروائی کی جائے گی۔

منگل کو شمالی اور جنوبی کوریا کے مابین ہونے والی گولہ باری سن 1953ء کی جنگ کے بعد سے اب تک کی شدید ترین جھڑپ تصور کی جا رہی ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد واشنگٹن حکومت نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ اس صورتحال کو معمول پر لانے کے لئے اپنا اثرو رسوخ استعمال کرے۔

Südkorea Insel Yeonpyeong Konflikt mit Nordkorea Flash-Galerie

جنوبی کوریا کے صدر Lee Myung-bak اپنے وزراء کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران

روسی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے روسی وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ بیجنگ حکومت نے کہا ہے کہ جزیزہ نما کوریا کی صورتحال کو معمول پر لانا ان کی اولین ترجیح ہے، جس کے لئے وہ واشنگٹن، سیئول اور پیونگ گیانگ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM