1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

بدلتے موسموں سے شدید متاثر ممالک کے نمائندے، ڈھاکہ میں جمع

بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں آج سے ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اٹھارہ ممالک کا خصوصی دو روزہ فورم شروع ہو رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون بھی اس فورم میں شریک ہوں گے۔

default

اس فورم کا مقصد اٹھائیس نومبر سے جنوبی افریقہ میں منعقد کی جانے والی ماحولیات کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کے لیے متفقہ لائحہ عمل تیار کرنا ہے۔ آج یعنی پیر کو عالمی ادارے کے سربراہ بان کی مون اس فورم کا باقاعدہ افتتاح کرتے ہوئے کلیدی خطاب کریں گے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی نے اس فورم کے منتظمین کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس دو روزہ فورم کے دوران ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اٹھارہ ممالک کے حکومتی نمائندے اور ماہرین مل بیٹھ کر گلوبل وارمنگ اور ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کوئی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے کی کوشش کریں گے۔

اس فورم کے دوران ممبر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے اپنے تجربے بھی بیان کریں گے۔ بنگلہ دیش کے ماحولیات کے وزیر مصباح عالم نے بتایا ہے کہ اس فورم کا مقصد یہ ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والی اقوام یک زبان ہو کر اپنے مسائل عالمی برداری کے سامنے پیش کرسکیں۔

Zyklon Aila wütet in Indien und Bangladesch

گلوبل وارمنگ سے بنگلہ دیش کو غیر معمولی سیلاب کا سامنا ہے

مصباح عالم نے مزید بتایا، ’ماحولیاتی تبدیلیاں ایک تلخ حقیقت ہے اور یہ ہم پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ہمیں سطح سمندر کے بڑھنے کا مسئلہ درپیش ہے، ہمیں سیلاب کا سامنا ہے اور ہمیں ایسے پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنا ہے، جو صرف ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں بے روزگار اور بے گھر ہو رہے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کیا کہ جب تک متاثرہ ممالک یک زبان ہو کر اپنے مسائل اور مشکلات بیان نہیں کریں گے تب تک عالمی برداری تک ان کی آواز مؤثر طریقے سے نہیں پہنچ سکے گی۔

اس فورم میں طے پانے والی تجاویز کو جنوبی افریقہ کے شہر ڈربن میں اسی ماہ کے آخر میں شروع ہونے والی  ماحولیات کی عالمی کانفرنس میں پیش کیا جائے گا۔ اس فورم کا یہ بھی کہنا ہے کہ امیر ترین ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ غریب ممالک کو مالی اور تکنیکی مدد فراہم کریں تاکہ وہ بدلتے ہوئے موسموں کے ساتھ مطابقت پیدا کرسکیں۔

2009ء میں قائم کیے گئے اس فورم کے تیسرے سالانہ اجلاس میں میزبان ملک بنگلہ دیش کے علاوہ افغانستان، بھوٹان، کوسٹاریکا، ایتھوپیا، مالدیپ، نیپال اور فلپائن کے نمائندے بھی شرکت کر رہے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس