1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بدعنوانی کی صورتحال بدستور تشویشناک: ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دُنیا بھر میں بدعنوانی کے حوالے سے اپنا اِس سال کا کرپشن پرسیپشنز انڈیکس (CPI) آج منگل کو اپنے ہیڈکوارٹر برلن سے جاری کیا ہے۔ اِس فہرست میں ڈنمارک کو سب سے کم بدعنوان ملک قرار دیا گیا ہے۔

default

افغانستان: کرپشن بدستور عروج پر

یہ انڈیکس یا اشاریہ دَس (انتہائی صاف شفاف) اور صفر (انتہائی بدعنوان) پوائنٹس کے ایک پیمانے کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ اِس فہرست میں مجموعی طور پر 178 ممالک شامل ہیں۔ 9.3 پوائنٹس کے ساتھ ڈنمارک سب سے کم بدعنوان ملک کے طور پر اِس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ 1.1 پوائنٹس کے ساتھ 178 ویں اور یوں آخری نمبر پر خانہ جنگی کی شکار افریقی ریاست صومالیہ ہے۔

صومالیہ کے ساتھ ہی ایک پوزیشن اوپر میانمار کا نام ہے جبکہ نیچے سے تیسرے یعنی 176 ویں نمبر پر افغانستان ہے۔ تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق افغانستان میں بدعنوانی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کے سلسلے میں تمام تر بین الاقوامی مطالبات کے باوجود وہاں بدعنوانی کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔ افغانستان کو محض 1.4 پوائنٹس دئے گئے ہیں۔ 1.5 پوائنٹس کے ساتھ گزشتہ برس بھی افغانستان کی کم و بیش یہی پوزیشن تھی۔ افغانستان کے ساتھ ہی 175 ویں نمبر پر عراق ہے۔

Huguette Labelle

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی چیئر پرسن اُوگیٹ لابیل، جن کا تعلق کینیڈا سے ہے

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اِس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ 178 ملکوں میں سے تقریباً تین چوتھائی ممالک کے پوائنٹس پانچ سے کم رہے ہیں۔ 2.3 پوائنٹس کے ساتھ پاکستان اِس فہرست میں 143 ویں نمبر پر ہے اور یوں دنیا کا 34 واں بدعنوان ترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان کا نمبر 42 واں تھا، گویا ایک سال میں پاکستان اکٹھی آٹھ پوزیشنیں نیچے چلا گیا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے چیئرمین سید عادل گیلانی کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران پاکستان میں سرکاری اداروں کی سطح پر اربوں روپے کی ایسی کرپشن ہوئی ہے کہ جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی تاہم قومی احتساب بیورو نے اِس کا کوئی نوٹِس نہیں لیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بدعنوانی سے نمٹنے کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کن طرزِ عمل دیکھنے میں نہیں آیا، جس کی وجہ سے سپریم کورٹ کو این آئی سی ایل، پاکستان اسٹیل اور رینٹل پاور پلانٹس میں بہت بڑے پیمانے پر ہونے والی کرپشن کے سلسلے میں از خود نوٹِس لینا پڑے۔

کرپشن انڈیکس کے مطابق جہاں پاکستان میں بدعنوانی بڑھتی جا رہی ہے، وہاں بنگلہ دیش میں اِس میں کمی آئی ہے۔ 2001ء، 2002ء اور 2003ء میں بدعنوان ترین ملک قرار پانے والا بنگلہ دیش تازہ فہرست میں 39 واں بدعنوان ترین ملک ہے اور یوں پاکستان کے مقابلے میں پانچ پوزیشنیں بہتر ہے۔ بدعنوانی میں اِس کمی کا بنگلہ دیش کو فائدہ بھی ہوا کہ وہاں گزشتہ برس مجموعی قومی پیداوار میں اضافے کی شرح پانچ فیصد رہی جبکہ پاکستان میں یہ شرح محض 2.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

Edda Müller Pressekonferenz

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جرمن شاخ کی سربراہ ایڈا ملر کے خیال میں بدعنوانی کے خلاف اقدامات کئے بغیر غربت اور پسماندگی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی جرمن شاخ کی سربراہ ایڈا مُلر کے خیال میں اتنے بڑے پیمانے پر بد عنوانی کا مطلب یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں غربت کے خاتمے اور ماحولیاتی اہداف کے حصول جیسے عالمگیر مسائل سے نمٹنے میں بھی شدید مشکلات پیش آئیں گی۔ وہ کہتی ہیں، ’جب ہم عنقریب کنکون میں ماحولیاتی سیاست پر بات کریں گے تو ہمارا پیغام یہ ہونا چاہئے کہ اِس طرح کے ملکوں کے لئے نئی مالی امداد پر بھی اُتنی ہی توجہ دی جانی چاہئے، جتنی کہ اِس بات پر کہ وہاں حکومتوں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے‘۔

آج جاری ہونے والے کرپشن انڈیکس میں سب سے کم بدعنوان ممالک میں ڈنمارک کے بعد نیوزی لینڈ، سنگا پور، فن لینڈ اور سویڈن کے نام ہیں۔ بیس سب سے کم بدعنوان ممالک میں محض ایک مسلمان ملک شامل ہے۔ یہ قطر ہے، جس کا نمبر 19 واں ہے اور جسے 7.7 پوائنٹس دئے گئے ہیں۔ امریکہ اِس بار اِن چوٹی کے بیس کم بدعنوان ممالک میں جگہ نہیں پا سکا اور پہلی مرتبہ 22 ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ جرمنی اِس فہرست میں 15 ویں جبکہ بھارت 87 ویں نمبر پر ہے۔ افریقی ممالک میں بدعنوانی سب سے زیادہ ہے لیکن وسطی ایشیا کے ممالک کی حالت بھی تقریباً اُنہی جیسی ہے۔

تنظیم کی چیئر پرسن اُوگَیٹ لابَیل نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پوری دُنیا میں اچھی حکومتیں قائم کرنے کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کر دے اور کرپشن یا بدعنوانی کے خلاف اقوام متحدہ کے کنوینشن کو مؤثر اور فیصلہ کن طور پر عملی شکل دے۔ اُنہوں نے کہا، ’بدعنوانی کو آئندہ بھی ہونے دینا ناقابل قبول ہے کیونکہ اِس کے نتائج پوری دُنیا میں بہت بڑی تعداد میں غریب اور کمزور انسانوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔‘

رپورٹ: امجد علی / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس