1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بدعنوانی کا شکار بھارت، سیاسی اعتماد کا بحران

’بھارت کا المیہ اس کا اپنا سیاسی نظام ہے۔‘ ایک بھارتی وزیر کی طرف سے اس حقیقت کے اعتراف نے اسی ہفتے وہاں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے مندوبین کی جیسے دل کی بات کہہ دی۔

default

بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ

ممبئی میں ہونے والے اس فورم میں مندوبین کی طرف سے کھل کر الزام اس بدعنوانی اور نئی دہلی کی مفلوج پالیسیوں پر لگایا جا رہا تھا، جن کی وجہ سے بھارتی اقتصادی امکانات پر تاریکی کے بادل چھاتے جا رہے ہیں۔ صرف چند ماہ قبل جب بھارت میں چند سماجی کارکنوں نے ملک میں بھوک ہڑتالوں اور عوامی مظاہروں کے ذریعے احتجاج کرنا شروع کیا تو یکدم کئی ملین شہری سڑکوں پر نکلنا شروع ہو گئے تھے۔ اس صورت حال نے حکومت کو ڈرا دیا تھا۔

Indien Hungerstreik Baba Ramdev

بھارت میں بھوک ہڑتال کرنے والے بابا رام دیو

اب یہ عوامی احتجاج ختم ہو چکا ہے لیکن وزیر اعظم من موہن سنگھ اور ان کی حکومت پر دباؤ ابھی تک ختم نہیں ہوا۔ اس پس منظر میں ممبئی منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں بھارت کے سرکردہ ترین صنعتکاروں نے خبردار کیا کہ ایشیا کی اس تیسری سب سے بڑی معیشت کو فوری طور پر اصلاحات اور طرز حکومت میں بہتری کی ضرورت ہے۔

ایسے مطالبات حکومت کے لیے اس لیے بھی جیسے خطرے کی گھنٹی بن گئے ہیں کہ ملکی معیشت میں آئندہ دنوں میں پیدا ہونے والی خرابیوں کے آثار واضح ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بھارت میں سال رواں کے دوران اقتصادی ترقی کی شرح 7.2 فیصد رہنے کی امید ہے۔ یہ شرح کافی زیادہ ہے لیکن پچھلے مالی سال کے مقابلے میں یہ کافی کم ہے، جب یہی شرح 8.5 فیصد رہی تھی۔

Indien Hungerstreik Baba Ramdev

یوگا گرو بابا رام دیو کی بھوک ہڑتال کو ختم کرانے کے لیے کی گئی پولیس کارروائی اور آنسو گیس کی شیلنگ

بھارتی معیشت کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں صنعتی پیداوار میں ترقی کی رفتار سست ہو چکی ہے، صارفین کا اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے اور افراط زر کی شرح بھی 10 فیصد کے بہت قریب ہے حالانکہ ملکی مرکزی بینک کی طرف سے سود کی شرح میں مسلسل 13 مرتبہ اضافہ کیا جا چکا ہے۔

اس فورم سے خطاب کرتے ہوئے ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ اور امیر ترین شہری مکیش امبانی نے کہا کہ ایسا کہنا غلط ہو گا کہ جمہورت اور جمہوری ادارے موجود ہیں تو وہ مفلوج بھی ہو سکتے ہیں۔ ان کے بقول انہیں جو بات سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے، وہ ایسے بیانات ہیں کہ مثال کے طور پر ’ایک پارٹی حکومت میں ہے تو ایک اپوزیشن میں، اپوزیشن ہمیں بالکل کام نہیں کرنے دیتی۔‘ مکیش امبانی کے مطابق ایسی ساری دلیلیں غلط وضاحتیں ہیں۔

Indien Hungerstreik Baba Ramdev

پولیس کارروائی کے بعد بابا رام دیو اپنے حامیوں کے ہمراہ

مکیش امبانی نے کہا کہ بھارت میں 20 ویں صدی کی ذہنیت سے نکل کر 21 ویں صدی کے فعال اداروں کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے بقول یہ کام ایسے کیا جانا چاہیے کہ ہر شہری کی توقعات کو پورا کیا جا سکے تاہم اس کے لیے موجودہ طرز‍ حکومت میں بہت بڑی اور تیز رفتار تبدیلی درکار ہو گی۔

اسی فورم میں قابل تجدید توانائی کے بھارتی وزیر فاروق عبداللہ نے کہا کہ بھارت کا المیہ اس کا اپنا ہی سیاسی نظام ہے۔ فاروق عبداللہ کے مطابق فیصلہ اب بھارتی سیاستدانوں کو کرنا ہے۔ ’’تبدیلی اس وقت آئے گی، جب ہم تبدیل ہوں گے۔‘‘

اس موقع پر بھارت میں بدعنوانی کے خلاف ملک گیر تحریک کی ایک سرکردہ رکن کرن بیدی نے ملک میں کرپشن کے خلاف نئے عوامی مظاہروں سے خبردار بھی کیا۔ کرن بیدی نے کہا کہ اگلے ہفتے ملکی پارلیمان کے موسم سرما کے جس سیشن کا آغاز ہونے والا ہے، اس میں حکومت کو لازمی طور پر بدعنوانی کے مرتکب وزیروں اور اعلیٰ سرکاری افسروں کو سزائیں سنا سکنے والے ایک نئے طاقتور قومی ادارے کے قیام سے متعلق قانونی بل منظور کرنا چاہیے۔ کرن بیدی کے مطابق اگر حکومت آئندہ پارلیمانی سیشن میں یہ قانون سازی نہ کر سکی، تو بدعنوانی کے خلاف قومی تحریک پورے ملک میں عوامی مظاہرے شروع کر دے گی۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس