1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بدعنوانی میں ملوث سعودی وزراء اور شہزادے فارغ

سعودی عرب میں بدعنوان کے شبے میں درجنوں وزراء ، شہزادوں اور سرکاری افسران کو ان کے عہدوں سے فارغ کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ دواہم وزراء کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔

سعودی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کرتے ہوئے گیارہ شہزادوں سمیت درجنوں موجودہ اور سابق وزرائے مملکت اور سرکاری افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت پر کی گئی، جب سعودی دارالحکومت ریاض  میں چند گھنٹوں قبل ہی لبنانی وزیر اعظم سعد حریری نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔

 بتایا گیا ہے کہ  دو اہم وزارتوں میں رد و بدل کرتے ہوئے نیشنل گارڈز کی ذمہ داری شہزادہ مِتعب بن عبداللہ سے لے کر خالد بن ایاف کے سپرد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اب عادل بن محمد فقیہ کی جگہ محمد تویجری وزیر معیشت ہوں گے۔ اس پیش رفت کو شاہ سلمان اور ان کے بیٹوں کی جانب سے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کی ایک کوشش بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

العربیہ چینل کے مطابق انسداد بدعنوانی کی کمیٹی نے 2009 ء میں آنے والے سیلاب کے دوران اٹھائے جانے والے اقدامات کا دوبارہ سے جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ اس سیلاب کی وجہ سے جدہ کا بیشتر حصہ زیر آب آ گیا تھا۔ ساتھ ہی نظام تنفس کو متاثر کرنے والے میرس وائرس کے تدارک کے لیے اٹھائے جانے والے حکومتی اقدامات کی تفتیش بھی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میرس کی زد میں آ کر گزشتہ برسوں کے دوران کئی سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

محمد بن سلمان: ایک اصلاحات پسند لیکن سخت گیر لیڈر

سعودی حکومت کا اقدام: ایک سے زائد مرتبہ حج کرنے پر اضافی فیس’سعودی عرب کو اعتدال پسند بنانے کا وعدہ کرتا ہوں‘

 تاہم العربیہ چینل نے ابھی تک حراست میں لیے جانے والے تمام شہزادوں اور وزراء کے نام جاری نہیں کیے ہیں۔ اس بارے میں سعودی حکومت کا بھی کوئی بیان ابھی تک سامنے نہیں آیا ہے۔ خبروں کے مطابق گرفتار کیے جانے والے تمام افراد کو ریاض کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں رکھا گیا ہے کیونکہ آج اتوار کی صبح سے ہی ہوٹل کے تمام ٹیلیفون بند کر دیے گئے ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق گرفتار شدگان میں ارب پتی سعودی شہزادہ الولید بن طلال بھی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ شہزاہ طلال کو ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب حراست میں لیا گیا۔ الولید کا شمار مشرق وسطی کی امیر ترین شخصیات میں ہوتا ہے ۔ انہوں نے ٹویٹر، ایپل، روپرٹ مرڈوک، سٹی گروپ، فور سیزن ہوٹلز اور لفٹ سروس میں بھی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ وہ سعودی شہزادوں میں سب سے بے باک تصور کیے جاتے ہیں۔

اسی دوران سعودی عرب کی علماء کونسل نے ایک بیان جاری کیا ہے، جس کے مطابق بدعنوانی کے خلاف اقدامات مذہبی فریضہ ہے۔ اس طرح ان گرفتاریوں کو ایک مذہبی پشت پناہی بھی حاصل ہو گئی ہے۔

 

DW.COM