1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

بدعنوانی سے پاک عدلیہ، پالیسی کا اعلان

نئی قومی عدالتی پالیسی کے تحت آئندہ پاکستان کے صوبائی چیف جسٹس قائم قام گورنر کا عہدہ قبول نہیں کریں گے جب کہ ریٹائرڈ جج بھی اپنے منصب سے کم کسی سرکاری عہدے پر کام نہیں کر سکیں گے۔

default

ملک کے آئینی و قانونی ماہرین نے ملک کی نئی عدالتی پالیسی کا خیر مقدم کیا ہے

پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں نئی عدالتی پالیسی کے خدوخال بتاتے ہوئے سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے کہا کہ عدالتوں میں کام کی رفتار تیز کرنے کے لئے دیگر سرکاری محکموں میں فرائض انجام دینے والے تمام ججوں کو واپس بلایا جا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے مطابق اس وقت ملک بھر میں 17 لاکھ مقدمات زیر التواء ہیں اور ان کے بقول سپریم کورٹ میں زیر التواء 19 ہزار مقدمات کو آئندہ چھ ماہ میں نمٹا لیا جائے گا۔ ڈاکٹر فقیر حسین کا یہ بھی کہنا تھا کہ عدلیہ کو بدعنوانی سے پاک کرنے کے لئے ایک نیا نظام وضع کیا جا رہا ہے جس کے تحت سپریم کورٹ اور چاروں صوبائی ہائی کورٹس میں انسداد بدعنوانی سیل قائم کئے جا رہے ہیں اور ان سیلوں میں بدعنوان عدالتی عملے اور مقدمات کی سماعت میں تاخیر کرنے والے ججوں کے خلاف بھی شکایات کی جا سکیں گی۔

Pakistan Protestaktion Richter speeren Straße Hände in Fesseln

پاکستان میں حال ہی میں عدلیہ کی آزادی اور بحالی کے لیے ایک غیر معمولی تحریک چلائی گئی تھی

ڈاکٹر فقیر حسین کا کہنا ہے کہ کرپشن کو ہر صورت میں اور ہر حال میں روکا جائے گا اور اس نظام میں کرپشن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ادھر ملک کے آئینی و قانونی ماہرین نے ملک کی نئی عدالتی پالیسی کا خیر مقدم کیا ہے تاہم سابق چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کے اعلان کو حکومتی سرپرستی کے حصول کا تاثر بھی ملتا تو یہ زیادہ احسن اقدام ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو یہ اختیارات سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کو دینے پڑیں گے کیونکہ آئین کے تحت سپریم کورٹ کو یہ اختیار نہیں ہے یہ سارے اختیارات وزیر اعظم کی ہدایت پر صدر مملکت استعمال کرتا ہے اور یہ ایک ایسا قانون ہے جس کے لئے اتھارٹی چاہئے تا کہ سپریم کورٹ اس پر عملدرآمد کرا سکے۔

معروف قانون دان اکرم شیخ کے مطابق عدالتی پالیسی ساز کمیٹی سے منظوری کے بعد اس پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ قومی سطح پر چاروں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان اس پالیسی سازی کے اندر شریک تھے اور ان کو اعتماد میں لے کر جو پالیسی بنانے کا فیصلہ کیاگیا ہے اور وہ نہیں سمجھتے کہ اس پالیسی پر عملدرآمد مشکل ہوگا۔

دریں اثناء عدالتی پالیسی میں مختلف مقدمات کی سماعت مکمل کرنے کے کی مدت کے تعین پر عوامی حلقوں نے بھی خوشی اور اطمینان کا اظہار اور اسے طالبان کے نظام عدل کے مقابلے میں ایک بہتر سسٹم مہیا کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔