1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بدامنی کے لیے رقوم، ہتھیار ایران کے دشمنوں نے دیے، خامنہ ای

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مطابق ملک میں متعدد ہلاکتوں کی وجہ بننے والی موجودہ بدامنی اور پرتشدد مظاہرے ایران کے دشمن کروا رہے ہیں، جنہوں نے اس مقصد کے لیے نقد رقوم اور ہتھیاروں کو بھی اپنا ذریعہ بنایا۔

default

ایرانی صدر حسن روحانی، دائیں، اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای

ایرانی دارالحکومت تہران سے منگل دو جنوری کو موصولہ نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے سے جس طرح ملک میں حکومتی اختیارات کو چیلنج کیا جا رہا ہے، وہ دراصل ایک ایسا منصوبہ ہے، جس کی ڈور ’ایران کے دشمنوں‘ کے ہاتھوں میں ہے۔

ایران میں پرتشدد مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 20 ہو گئی

مغربی ایران میں دو مظاہرین ہلاک

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق ایران میں جمعرات 28 دسمبر سے جو احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، ان کا آج منگل دو جنوری کے روز مسلسل چھٹا دن ہے اور اس دوران اب تک کم از کم 20 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ ان ملک گیر مظاہروں کے دوران اب تک ملکی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مسلسل خاموشی اختیا رکر رکھی تھی۔

اب لیکن انہوں نے اس بارے میں اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جس موقف کا اظہار کیا ہے، وہ آج ہی ان کے ایک بیان کی صورت میں ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر بھی دکھایا گیا۔ خامنہ ای نے لیکن نام لے کر نہیں بتایا کہ ’ایران کے دشمنوں‘ سے ان کی مراد کون سے عناصر یا ممالک ہیں۔

اپنے اس بیان میں ایران کے اعلیٰ ترین مذہبی رہنما نے کہا، ’’حالیہ کچھ دنوں کے دوران ایران کے دشمن آپس میں متحد ہو گئے ہیں اور انہوں نے رقوم، ہتھیاروں کی فراہمی، اپنی پالیسیوں اور انٹیلیجنس اور سکیورٹی کے شعبوں میں اپنی سروسز سمیت تمام وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک منصوبہ تیار کیا، جس کا مقصد اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے مسائل کھڑے کرنا ہے۔‘‘

’دنیا دیکھ رہی ہے‘، ایران میں مظاہروں پر ٹرمپ کی تنبیہ

مظاہرین کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے، ایرانی مذہبی رہنما

آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنی ویب سائٹ پر یہ بھی کہا کہ وہ ملک میں حالیہ بدامنی کے بارے میں ایرانی قوم سے خطاب بھی کریں گے لیکن ایسا ’مناسب وقت آنے پر‘ ہی کیا جائے گا۔

ایران میں یہ مظاہرے مہنگائی، بے روزگاری اور مشرق وسطیٰ میں ایرانی پالیسیوں کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو اب تک کم از کم 20 افراد کی ہلاکت اور درجنوں دیگر کے زخمی ہونے کی وجہ بننے کے علاوہ بہت زیادہ مادی نقصانات کا سبب بھی بن چکے ہیں۔

ان مظاہروں کے شرکاء ملکی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تک کے خلاف بھی نعرے بازی کرتے ہیں اور عوامی سطح پر یہ مظاہرے ایران میں 2009ء کے بعد سے ملک گیر احتجاج کی سب سے بڑی لہر بن چکے ہیں۔

ایران کے خلاف ٹرمپ کو ناکامی دیکھنا پڑے گی، خامنہ ای

ایران حوثی باغیوں کو میزائل فراہم کر رہا ہے، امریکی الزام

نیوز ایجنسی روئٹرز نے لکھا ہے کہ ان مظاہروں کے دوران صرف دارالحکومت تہران سے ہی گزشتہ تین دنوں کے دوران 450 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ صوبے تہران کے نائب گورنر کے مطابق ان میں سے 200 سے زائد مظاہرین کو ہفتے کے روز، 150 سے زائد کو اتوار کے دن اور 100 سے زائد کو کل پیر کے روز حراست میں لیا گیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا میں ان مظاہرین کے لیے ’بلوائیوں‘ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔

ان مظاہروں کے دوران گزشتہ رات مزید نو افراد اس وقت مارے گئے تھے، جب چند قصبوں اور شہروں میں مظاہرین نے پولیس اسٹیشنوں پر قبضے کی کوشش کی۔ یہ تمام نو ہلاکتیں وسطی ایرانی صوبے اصفہان کے مختلف حصوں میں ہوئیں۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات