1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہ روم کا راستہ اور جرمنی بذریعہ سوئٹزرلینڈ

گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال کے پہلے تین ماہ کے دوران لیبیا سے بحیرہ روم کے راستوں کے ذریعے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

جرمن اخبار ’ویلٹ ام زونٹاگ‘ نے جرمن وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ بحیرہ روم کے خطرناک سمندری راستے اختیار کرتے ہوئے اٹلی پہنچنے والے مہاجرین اور تارکین وطن کی تعداد میں گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس کے پہلے تین ماہ کے دوران ستر فیصد اضافہ ہوا ہے۔

’یورپ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے نہیں دیے جائیں گے‘

اطالوی حکومت کے اندازوں کے مطابق اس برس کے آخر تک ڈھائی لاکھ تارکین وطن افریقی ممالک سے کشتیوں میں سوار ہو کر بحیرہ روم کے ذریعے اٹلی پہنچیں گے۔ اگرچہ حالیہ عرصے کے دوران تارکین وطن کی زیادہ تر کشتیاں مصری ساحل سے روانہ ہوئیں، اس کے باوجود اب بھی قریب پچانوے فیصد مہاجرین لیبیا سے یورپ کا رخ کر رہے ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے اخبار کو دیے گئے اپنے ایک تحریری جواب میں یہ بھی بتایا کہ اس سال اب تک زمینی راستوں کے ذریعے جرمنی پہنچنے والے زیادہ تر تارکین وطن سوئٹزرلینڈ کے راستے سے آئے ہیں۔ سال کے پہلے دو ماہ کے دوران قریب چودہ سو پناہ کے متلاشی افراد سوئٹزرلینڈ کے ذریعے جرمنی کی حدود میں داخل ہوئے جب کہ پچھلے سال اسی دورانیے میں یہ راستہ اختیار کرنے والے تارکین وطن کی تعداد محض چار سو رہی تھی۔

اسی رجحان کو پیش نظر رکھتے ہوئے جرمنی کی وفاقی ریاست باڈن ورٹمبرگ کے وزیر داخلہ تھوماس شٹروبل نے جرمنی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر سخت چیکنگ اور بارڈر کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تھوماس شٹروبل کا کہنا تھا، ’’اب تک اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر حالات قابو میں ہیں لیکن جب بھی وہاں حالات قابو سے باہر ہو گئے تو پھر جرمن سوئس سرحد پر سختی کرنا پڑے گی۔‘‘ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا کہ سوئٹزرلینڈ سے متصل سرحد پر اسی سال سخت بارڈر کنٹرول متعارف کرانا پڑ سکتا ہے۔

باڈن ورٹمبرگ کے وزیر داخلہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ جو تارکین وطن فراڈ کے ذریعے حکومت سے ایک سے زائد مرتبہ سماجی مراعات حاصل کر رہے ہیں، ان کے خلاف فوری اور سخت اقدام کیے جائیں گے۔ شٹروبل کا کہنا تھا انہیں اس بات پر شدید غصہ ہے کہ ’جب مہاجرین کو حکومت سے مالی فوائد حاصل کرنا ہوتے ہیں تو اچانک ہی انہیں وہ ساری دستاویزات مل جاتی ہیں جن کے بارے میں وہ حکام کو پہلے بتا چکے ہوتے ہیں کہ دستاویزات راستوں ہی میں کہیں گم ہو گئی ہیں‘۔

لاکھوں تارکین وطن کن کن راستوں سے کیسے یورپ پہنچے

DW.COM