1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہ روم میں مزید ساڑھے تین سو کے قریب مہاجرین لاپتہ

مہاجرین سے متعلق انٹرنیشنل ادارے کے مطابق گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں میں بحیرہ روم میں 340 کے قریب مہاجرین ہلاک یا لاپتہ ہو گئے ہیں۔ ان افراد کی ہلاکت یا گمشدگی کی وجہ چار بحری کشتیوں کی غرقابی بتائی گئی ہے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق گزشتہ اڑتالیس سے زائد گھنٹوں کے دوران بحیرہ روم کی تند موجوں کی لپیٹ میں آ کر کم از کم چار کشتیاں غرق آب ہوئی ہیں۔ ادارے کے مطابق ان غرقابی کے حادثوں کی وجہ سے تقریباً 340 پناہ کے متلاشی افراد لاپتہ یا ڈوب گئے ہیں۔ اُن کی تلاش جاری ہے لیکن غالب امکان ہے کہ وہ سمندر برد ہو چکے ہیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن برائے مہاجرت کے اطالوی دفتر کے ترجمان فلاویو ڈی جیاکومو کے مطابق اس حادثے کے بعد فضائی اور سمندری تلاش کا عمل جاری ہے لیکن دور دور تک کوئی نعش یا تیرتا ہوا زندہ انسان نہیں مل سکا۔ جیاکومو کے مطابق بحیرہ روم کی تند موجوں نے افریقہ کی سمت سے سفر کرنے والے مبینہ مہاجرین کی شکستہ کشتیوں کے لیے انتہائی مشکل حالات پیدا کر رکھے ہیں۔

Italien und Malta Flüchtlinge wurden im Mittelmeer gerettet (picture-alliance/AP Photo/F. Malavolta)

بحیرہ روم سے بچائے گئے مہاجرین ایک ریسکیو بحری جہاز کے عرشے پر

اسی طرح طبی امداد فراہم کرنے والی بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو ایام کے دوران افریقی مہاجرین سے لدی ایک ربڑ کی کشتی بھی بحیرہ روم کی موجوں کی نذر ہو گئی ہے۔ اس ربڑ کی کشتی پر 130 سے زائد مہاجر سوار تھے۔ اس کشتی کے الٹنے کے واقعے میں ستائیس افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ سمندر کی سطح پر تیرتی ہوئی سات نعشوں کو بھی نکال لیا گیا ہے۔  

مہاجرت پر نگاہ رکھنے والی بین الاقوامی تنظیم IOM کے اہلکار فلاویو ڈی جیاکوموکے مطابق  ان ہلاکتوں کے بعد رواں برس کے دوران بحیرہ روم میں لاپتہ یا ڈوب کر مرنے والوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور یہ ایک ریکارڈ تعداد ہے۔

اس سے قبل سن 2015 میں ڈوبنے یا لاپتہ ہونے والوں کی تعداد تین ہزار 777 تھی۔ اس طرح رواں برس بحیرہ روم میں کشتیوں کی غرقابی کے حادثات میں لاپتہ یا ڈوبنے والوں کی تعداد گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔