1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہ روم میں دو اور کشتیاں غرق، ڈھائی سو تک ہلاکتوں کا خدشہ

سمندری راستوں سے انسانی اسمگلنگ پر نگاہ رکھنے والے اداروں نے بحیرہ روم میں تقریباً ڈھائی سو تارکین وطن کے ڈوب جانے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ پناہ کی تلاش میں یہ غیر ملکی دو کافی بڑی لیکن غیر محفوظ کشتیوں پر سوار تھے۔

انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیاں کرنے والے بین الاقوامی گروپوں نے آج جمعرات تین نومبر کے روز بتایا کہ بحیرہ روم میں دو اور کشتیوں کی غرقابی کے نتیجے میں ڈھائی سو تک افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ مرنے والوں کی تعداد کا یہ تخمینہ ان دونوں کشتیوں میں سوار لیکن ڈوبنے سے بچ جانے والے افراد کے بیانات کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آج سمندر میں ڈوب جانے والوں کی حتمی تعداد کے ممکنہ تعین میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

بحیرہ روم میں مہاجرین کی ان کشتیوں کی غرقابی کی تصدیق بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) نے بھی کر دی ہے۔ اس ادارے کے ترجمان فلاویو ڈی جیاکومو بھی سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جانے والے ان افراد کی حتمی تعداد کے بارے میں کچھ نہ کہہ سکے۔ جیاکومو کے مطابق کشتیوں کی غرقابی کے دوران جو مسافر بچا لیے گئے، انہیں اطالوی جزیرے لامپےڈوسا پر پہنچا دیا گیا ہے۔ انہی بچ جانے والوں نے ہلاک شدگان کی تعداد 240 کے قریب بتائی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین UNHCR کے اٹلی میں ملکی دفتر کی خاتون ترجمان کارلوٹا سامی نے ان کشتیوں کے حادثے کے بعد امدادی کارروائیوں کے آغاز کی تصدیق کر دی۔ سامی کے مطابق فضائی اور بحری جہازوں کے ذریعے حادثے کے مقام پر بچ جانے والوں کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ سامی کے مطابق بھی زندہ بچا لیے جانے والے افراد نے ڈوبنے والوں کی تعداد 239 بتائی ہے۔

Medecins Sans Frontieres Europa Seenotrettung (picture-alliance/AP Photo/B.Janssen)

بحیرہ روم میں تارکین وطن کو بچانے والے امدادی ورکرز

اسی دوران فلاویو ڈی جیاکومو نے ٹیلی فون پر بتایا کہ ایک کشتی پر سوار 115 کے قریب افراد یقینی طور پر لاپتہ ہیں جبکہ ڈوب جانے والی دوسری کشتی ربر کی تھی اور اس پر 128 افراد سوار تھے۔ جیاکومو نے یہ بھی بتایا کہ سمندر سے پانی پر تیرتی بارہ لاشیں بھی نکال لی گئی ہیں، جن میں سے تین بچوں کی تھیں۔ بچائے جانے والے افراد کی تعداد 29 بتائی جا رہی ہے۔ انہیں اطالوی کوسٹ گارڈز نے کھلے سمندر میں بچایا۔

اس حادثے کے بعد بحیرہ روم میں رواں برس کے دوران لاپتہ یا ڈوب جانے والے افراد کی تعداد 4220 ہو گئی ہے۔ اس سے قبل سن 2015 میں ڈوبنے یا لاپتہ ہونے والوں کی تعداد 3777 تھی۔ اس طرح سن 2016 میں بحیرہ روم میں پناہ گزینوں کی کشتیوں کے حادثات میں اب تک ڈوب جانے والوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔