1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہ روم میں جرمن مشن میں توسیع کا منصوبہ

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ نے بحیرہٴ روم میں اپنے بحری مشن کے دائرہ کار میں توسیع کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔

اس نئے منصوبے میں تجویز دی گئی ہے کہ بحیرہ روم میں فعال جرمن بحری مشن کو شمالی افریقی ملک لیبیا میں انتہا پسند گروہ داعش کو اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بھی کارروائی کرنے کے قابل ہونا چاہیے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے برلن حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے جرمن چانسلر انگیلا میرکل کی کابینہ نے اتفاق کر لیا ہے کہ بحیرہء روم میں جرمن نیوی مشن کے دائرہ کار میں وسعت پیدا کی جائے۔ یہ مشن اس سمندر میں انسانوں کے اسمگلروں کے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی بھی کر رہا ہے۔

جرمن کابینہ کی طرف سے یہ منظوری ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے، جب یورپی یونین نے اپنی نیوی فورس کو یہ اجازت بھی دے دی کہ وہ انسانوں کے مشتبہ اسمگلروں کی کشتیوں کے خلاف کارروائی بھی کر سکتی ہے۔

جرمن پارلیمان متوقع طور پر جولائی سے قبل ہی اپنے نیوی مشن کے دائرہ کار میں وسعت کے مجوزہ منصوبے کو حتمی شکل دے جا سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس مشن کے تحت اب لیبیا کے ساحلی علاقوں کی نگرانی کے لیے طرابلس حکومت کو مدد اور تعاون فراہم کیا جائے گا۔

جرمنی کی بحریہ بھی یورپی یونین کے اشتراک سے بحیرہء روم میں جاری کارروائیوں میں انتظامی مدد فراہم کر رہی ہے۔

جرمن فوج کے مطابق ساڑھے نو سو فوجی اس مشن پر تعینات ہیں، جنہوں نے مئی سن 2015 سے بحیرہ روم میں بھٹکتے پندرہ ہزار مہاجرین اور تارکین وطن کو بچانے میں تعاون کیا ہے۔

روئٹرز نے جرمن حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس مجوزہ منصوبے کی حتمی منظوری کے بعد جرمن بحری جہاز بحیرہ روم میں بڑے بڑے جہازوں کو روک کر ان کی تلاشی بھی لے سکیں گے۔۔

ایسے کئی بحری جہاز شمالی افریقہ سے مہاجرین کو غیر قانونی طور پر یورپی ساحلوں تک پہنچانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ جرمن بحری مشن انسانوں کی اسمگلنگ کے سلسلے کو روکنے کی خاطر میں مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لے سکے گا۔ اسی طرح جرمن فورسز اسلحے کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کے خلاف بھی کارروائی کر سکیں گی۔

جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ لیبیا جیسے شورش زدہ شکار ممالک کی داخلی صورتحال بہتر بنائے بغیر مہاجرین کے بحران پر قابو پانا مشکل ہے۔