1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہ روم میں ایک سو ستاون مہاجرین ڈوبنے سے بچا لیے گئے

اسپین کی ایک بحری ریسکیو سروس نے پانچ چھوٹی کشتیوں پر سوار ایک سو ستاون تارکین وطن کو بحیرہ روم میں ڈوبنے سے بچا لیا ہے۔ یہ امدادی آپریشن جمعے کی شام دیر سے شروع ہوئے اور ہفتے کی شام تک جاری رہے۔

اسپین کے ایک امدادی گروپ میری ٹائم کے مطابق اُس نے آبنائے جبرالٹر کے مشرق میں مہاجرین کی چھوٹی کشتیوں تک پہنچنے کے لیے پانچ امدادی کارروائیاں کی ہیں۔ 

میری ٹائم سروس کا کہنا ہے کہ سب سے پہلی کشتی کو اسپین کے ایک فوجی جہاز نے دیکھا اور اُس کی اطلاع پر کشتی پر موجود ستائیس مردوں اور چھ خواتین کو بچانے کے لیے امدادی کارروائی کی گئی۔ ایک دوسری امدادی کشتی نے مہاجرین کی ایک کشتی سے پانچ افراد کو ڈوبنے سے بچایا۔

میری ٹائم کی جانب سے مزید بتایا گیا ہے کہ تارکین وطن کی ایک تیسری کشتی کی نشاندہی اسپین اور مراکش کے درمیان ’البورن‘ جزیرے پر واقع ایک ہسپانوی بحریہ چوکی کے عملے نے کی۔ اس کشتی پر 35 افراد سوار تھے، اور یہ سمندر میں ڈوبنے کے قریب تھی۔

 چوکی پر موجود ہسپانوی بحریہ کے فوجیوں نے کشتی کو جزیرے پر لنگر انداز ہونے میں مدد  فراہم کی اور بعد میں اِس پر سوار تارکین وطن کو  میری ٹائم کی امدادی سروس کے ارکان اپنے ہمراہ لے گئے۔

چوتھی کشتی کے بارے میں مراکشی حکام نے میری ٹائم سروس کو اطلاع دی تھی۔ اس کشتی پر 30 مرد اور دو خواتین سوار تھیں۔ اسی دورانیے میں ہسپانوی بحریہ کے ایک جہاز نے ایک پانچویں کشتی کو سمندر میں ہچکولے کھاتے دیکھا اور میری ٹائم سروس کو آگاہ کیا۔ اس کشتی پر 42 مرد اور 10 خواتین سوار تھیں۔

گزشتہ دو برسوں کے دوران لاکھوں تارکین وطن اور مہاجرین بحیرہ روم اور بحیرہ ایجیئن کے سمندری راستوں کے ذریعے یورپ کا رخ کر چکے ہیں۔ یہ تارکین وطن اس خطرناک سمندری سفر کے لیے انسانی اسمگلروں کو بھاری رقوم ادا کرتے ہیں۔ سمندر کے سفر کے لیے انسانی اسمگلر غیر محفوظ اور کبھی کبھار بادبانی کشتیوں کا استعمال کرتے ہیں۔

 ترکی اور یورپی یونین کے مابین مہاجرین کو روکنے سے متعلق معاہدے طے پانے کے بعد ترکی سے یونان کا رخ کرنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں تو نمایاں کمی ہوئی ہے تاہم لیبیا اور مصر کے ساحلوں سے اٹلی پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد اب بھی کافی زیادہ ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic