1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحیرہ روم میں اٹھارہ سو تارکین وطن بچا لیے گئے

لیبیا کے سمندری پانیوں میں پھنسے اٹھارہ سو سے زائد مہاجرین کو بچا لیا گیا ہے۔ اطالوی ساحلی محافظوں کے مطابق چھ کشتیوں پر سوار یہ تارکین وطن اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔

Italien Mittelmeer Rettungsaktion Küstenwache Flüchtlinge Boot

اطالوی حکام کے مطابق ان افراد کو محفوظ طریقے سے ساحل تک پہنچانے کے لیے چھ مختلف آپریشنز کیے گئے

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے منگل چھ اکتوبر کے روز لکھا کہ اطالوی ساحلی محافظ ہنگامی امدادی کارروائی کرتے ہوئے ان تارکین وطن کو ساحل سمندر تک پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ چھ مختلف کشیوں میں سوار اٹھارہ سو تیس افراد اٹلی پہنچنے کی کوشش میں تھے کہ وہ بحیرہ روم کے پانیوں میں پھنس کر رہ گئے۔

اطالوی حکام کے مطابق ان افراد کو محفوظ طریقے سے ساحل تک پہنچانے کے لیے چھ مختلف آپریشنز کیے گئے، جو تمام کامیاب ثابت ہوئے۔ ساحلی محافظوں کے مطابق اس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام نے بتایا کہ ان ہنگامی آپریشنز میں برطانیہ اور آئرلینڈ کے ایک ایک بحری جہاز نے بھی حصہ لیا۔ یہ بحری جہاز بحیرہ روم میں خصوصی آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں، جن کا مقصد یہی ہے کہ وہ سمندری پانیوں میں پھنسے تارکین وطن کی جانیں بچا سکیں۔

یورپی یونین نے اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ریسکیو آپریشن شروع کر رکھا ہے تاکہ ہجرت کی کوشش میں انسانی زندگیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔ شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش میں ہزاروں افراد اپنی جان کھو بیٹھتے ہیں۔ کشتیوں میں سوار ہو کر یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران زیادہ تر حادثات اس لیے پیش آتے ہیں کہ مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاتے۔

اقوام متحدہ کے مہاجرین کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق رواں برس شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے والے تارکین وطن افراد کی تعداد نصف ملین کے قریب بنتی ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق یورپ پہنچنے کی کوشش میں اس سال کے دوران اب تک کم از کم تین ہزار افراد ہلاک یا لاپتہ بھی ہو چکے ہیں۔

Symbolbild Flüchtlingsboot Küste Libyen

افریقہ سے یورپ پہنچنے والے زیادہ تر افراد لیبیا کے ساحلی علاقے استعمال کرتے ہیں

افریقہ سے یورپ پہنچنے والے زیادہ تر افراد لیبیا کے ساحلی علاقے استعمال کرتے ہیں جبکہ مشرق وسطیٰ اور ایشیا سے یورپ پہنچنے کے خواہش مند تارکین وطن ترکی کا سمندری راستہ اختیار کرتے ہیں۔

گزشتہ بدھ کے دن سے یورپی یونین کے خصوصی ریسکیو مشن Navfor Med کو ایسے اختیارات بھی حاصل ہو چکے ہیں، جن کے تحت انسانوں کے اسمگلروں کے خلاف زیادہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان نئے اختیارات کے تحت اس مشن میں شامل ساحلی محافظ بین الاقوامی پانیوں میں کشتیوں کی تلاشی بھی لے سکتے گے اور اگر انہیں شبہ ہو کہ انسانوں کی اسمگلنگ کی کوشش کی جا رہی ہے، تو وہ ان کشتیوں کا رخ موڑ بھی سکتے ہیں۔