بحیرہٴ جنوبی چین کا تنازعہ، چین کی گروپ جی سیون سے شکایت | حالات حاضرہ | DW | 13.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحیرہٴ جنوبی چین کا تنازعہ، چین کی گروپ جی سیون سے شکایت

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق اُس نے جی سیون کہلانے والےگروپ میں شامل ملکوں کے سفیروں کو طلب کیا ہے اور اُن سے اس گروپ کے وُزرائے خارجہ کے مشرقی اور جنوبی بحیرہٴ چین سے متعلق ایک حالیہ بیان کے حوالے سے شکایت کی ہے۔

China Lu Kang in Peking

وزارتِ خارجہ کے ترجمان لُو کانگ

چین پورے بحیرہٴ جنوبی چین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس سمندر کے نیچے معدنی تیل اور گیس کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اس بحری علاقے پر اپنی ملکیت کے دعوے کو مستحکم کرنے کے لیے چین اس کے اندر واقع چٹانوں پر باقاعدہ جزیرے تعمیر کر رہا ہے۔

اس بحری علاقے کے مختلف حصوں پر برونائی، ملائیشیا، فلپائن، تائیوان اور ویت نام بھی ملکیت کے دعوے کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سمندری راستے سے سالانہ پانچ ٹریلین ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔

بحیرہٴ جنوبی چین کے ساتھ ساتھ چین کا مشرقی بحیرہٴ چین کے چند ایک غیر آباد جزائر پر جاپان کے ساتھ بھی تنازعہ چل رہا ہے۔

بدھ تیرہ اپریل کے روز چینی دارالحکومت بیجنگ میں وزارتِ خارجہ کے ترجمان لُو کانگ نے روزانہ منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ چینی حکومت کے خیال میں جاپانی شہر ہیروشیما میں جی سیون کے وُزرائے خارجہ کے اجلاس کا حقیقت میں چین کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں بنتا تھا۔

چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق پھر لیکن جی سیون کے وُزرائے خارجہ کا بیان سامنے آنے کے بعد چین نے فیصلہ کیا کہ اس بیان کے کچھ حصے ’درست نہیں‘ ہیں اور ‘غلط فہمی پر مبنی‘ ہیں چنانچہ یہ ضروری تھا کہ چین اس پر اپنا موقف واضح کرتا۔

لُو نے کہا:’’چنانچہ ہاں، ہم نے متعلقہ ممالک کے سفیروں کو طلب کیا اور اُنہیں اس معاملے میں چین کے موقف سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا۔‘‘ ترجمان لُو کا کہنا تھا کہ ان سفیروں کو بھی وہی موقف بتایا گیا، جس کا اظہار چینی حکومت پہلے بھی کھلے عام کرتی رہتی ہے۔

China Inseln Süd China Meer

چین بحیرہٴ جنوبی چین پر اپنی ملکیت کے دعوے کو مستحکم کرنے کے لیے اس کے اندر واقع چٹانوں پر باقاعدہ مصنوعی جزیرے تعمیر کر رہا ہے

منگل کے روز چینی وزارتِ خارجہ نے جی سیون گروپ کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس گروپ کو ایسے معاملات میں کسی ایک یا دوسرے فریق کی حمایت نہیں کرنی چاہیے، جن کا تعلق علاقائی تنازعات سے ہو۔

گروپ جی سیون ریاست ہائے متحدہ امریکا، فرانس، کینیڈا، جرمنی، برطانیہ، اٹلی اور جاپان پر مشتمل ہے۔ اس گروپ کے رہنماؤں کی اگلی سربراہ کانفرنس آئندہ مہینے ایک بار پھر جاپان میں ہونے والی ہے۔