1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم کا خطرناک راستہ کتنے انسان کھا گیا

سال 2015ء بحیرہ روم عبور کر کے غیر قانونی طور پر یورپ پہنچنے کے خواہش مند مہاجرین کے لیے نہایت خون ریز رہا۔ ایک برس میں بحیرہء روم قریب چار ہزار مہاجرین کی ہلاکت کا باعث بنا۔

ترک وطن کے بین الاقوامی ادارےIOM کی جانب سے جاری کردہ گزشتہ برس کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ سال 2015ء میں بحیرہء روم سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں میں سے ریکارڈ تعداد میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ اس تنظیم کے مطابق جنگ زدہ اور غریب ممالک سے یہ مہاجرین ایک بہتر اور پرامن مستقبل کے لیے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ان افراد میں سے زیادہ تر بحیرہء روم کے وسطی راستے کے ذریعے لیبیا میں موجود اسمگلروں کا سہارا لے کر یورپ میں داخل ہونا چاہتے تھے اور ہلاکتیں بھی زیادہ تر اسی راستے میں ہوئیں۔

IOM کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس ان مہاجرین کے لیے سب سے خون ریز ماہ اپریل رہا، جب 12 سو مہاجرین ہلاک ہوئے۔ ان میں ایک واقعے میں ایک کشتی پر گنجائش سے زائد بٹھائے گئے 800 مہاجرین ایک حادثے کا شکار ہوئے اور ان میں سے صرف 28 افراد کو بچایا جا سکا۔

Frankreich Italien Flüchtlinge an der Grenze bei Ventimiglia

مہاجرین کی ایک بڑی تعداد یہ پرخطر راستہ عبور کر کے یورپ پہنچی ہے

جنیوا میں قائم اس بین الاقوامی ادارے کا کہنا ہے کہ سن 2015 میں عالمی سطح پر قریب پانچ ہزار تین سو پچاس مہاجرین ہلاک ہوئے، جب کہ سن 2014ء میں یہ تعداد پانچ ہزار 17 تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہےکہ بحیرہء روم میں گزشتہ برس 37 سو 70 افراد ہلاک ہوئے، جب کہ سن 2014ء میں یہ تعداد تین ہزار دو سو 70 تھی۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کا کہنا ہے کہ گزرے برس دنیا کے متعدد جنگ زدہ اور غربت کے شکار ممالک سے فرار ہو کر دیگر ممالک کا رخ کرنے والے ریکارڈ افراد مارے گئے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق یورپ دوسری عالمی جنگ کے بعد مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سن 2015ء میں دنیا بھرمیں اپنا گھر بار چھوڑ کر دیگر مقامات کی جانب منتقل ہونے والے افراد کی تعداد ساٹھ ملین سے تجاوز کر گئی، جس میں ایک بڑی وجہ شامی تنازعہ رہا۔

یہ بات اہم ہے کہ رواں برس ستمبر میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے تین سالہ شامی بچے ایلان کردی کی ایک تصویر نے یورپ بھر کو ایک دھچکے سے دوچار کر دیا تھا، جس کے بعد جرمنی کی جانب سے مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھول دی گئی تھیں۔