1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم پچھلے برس کے مقابلے میں تین گنا خون ریز، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کا کہنا ہےکہ رواں برس بحیرہء روم میں اب تک تین ہزار سات سو چالیس مہاجرین ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں اور بحیرہء روم عبور کرنے والے افراد کی ہلاکتوں میں اضافہ تین گنا دکھائی دے رہا ہے۔

بحیرہء روم میں مہاجرین کو ریسکیو کرنے کی سرگرمیوں میں مصروف امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران رواں برس اب تک ہونے والی ہلاکتیں گزشتہ پورے برس ہلاک ہونے والوں سے زیادہ ہو چکی ہیں، حالاں کہ گزشتہ برس ایک ملین سے زائد افراد اس راستے سے یورپ پہنچنے تھے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا کہ موسم سرما کے خطرناک مہینوں کے دوران یہ کوشش مزید تقویت پکڑ سکتی ہے۔

امدادی تنظیموں کے مطابق انسانوں کے اسمگلر اب ہزاروں افراد کو شکستہ کشتیوں میں بٹھا کر لیبیا سے اطالوی جزائر کی جانب بھیج رہے ہیں، جب کہ بحیرہء روم کی بھیانک موجیں ان کشتیوں کو غرق کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق، گزشتہ برس اس راستے سے ایک ملین سے زائد افراد یورپ پہنچے تھے، جن میں کل ہلاکتیں تین ہزار سات سو چالیس رہی تھیں۔ رواں برس اب تک بحیرہء روم کے ذریعے یورپ پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد بہت کم ہے، تاہم ہلاکتوں کی تعداد تین ہزار سات سو اکہتر ہو چکی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق یہ صورت حال انتہائی بدترین ہے۔ ’’آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد تین گنا ہو چکی ہے۔‘‘