1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم میں 126 تارکین وطن ڈوب گئے

لیبیا سے بحیرہء روم کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران 126 تارکین وطن ڈوب گئے ہیں۔ بچنے والے چار مہاجروں نے ربر کی کشتی اور اس پر سوار افراد کے ڈوبنے کی اطلاعات دی ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی جانب سے بچائے گئے چار تارکین وطن کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ تارکین وطن سے بھری ربر کی ایک کشتی بحیرہء روم میں تب ڈوب گئی، جب انسانوں کے اسمگلر بیچ سمندر میں اس سے انجن نکال کر لے گئے۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اطالوی جزیرے سِسلی پر پہنچائے جانے والے چار تارکین وطن نے اس کشتی اور تارکین وطن کے ڈوب جانے کی اطلاعات دی ہیں۔ یہ تارکین وطن اطالوی کوسٹ گارڈز کے بحری جہاز میں پیر کے روز سِسلی پہنچائے گئے تھے۔

Libyen spanische Patrouille überwacht Flüchlingsboot für eine Rettungsaktion (picture-alliance/AA/M. Drinkwater )

اسمگلر ربر کی کشتیوں پر سینکڑوں افراد کو بیچ سمندر بے آسرا چھوڑ دیتے ہیں

ریسکیو کیے گئے ان دو سوڈانی اور ایک نائجیرین تارکین وطن نے حکام کو بتایا کہ جمعرات کی شب لیبیا سے انسانوں کے اسمگلروں نے انہیں کشتی میں سوار کیا اور کچھ گھنٹے کے بعد کشتی کے انجن نکال کر ایک اور کشتی کے ذریعے واپس لوٹ گئے، جب کہ تارکین وطن سے بھری کشتی بیچ سمندر میں بے آسرا چھوڑ دی گئی۔

بچ جانے والے تارکین وطن کے مطابق اس کشتی پر 130 افراد سوار تھے، جن میں سے زیادہ تر تعداد سوڈانی شہریوں کی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کشتی سمندر کی موجوں کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی اور رفتہ رفتہ تمام تارکین وطن ڈوب گئے، جب کہ حادثاتی طور پر قریب سے گزرنے والی ایک ماہی گیر کشتی نے ان چار تارکین وطن کو بچایا۔ بعد میں یہ تارکین وطن ایک ریسکیو کشتی میں منتقل کیے گئے۔

اطالوی حکام کے مطابق بچائے گئے ان تارکین وطن سے بات چیت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ ’دھچکے کا شکار‘ ہیں اور ’نہایت بدحواس‘ ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ لیبیا سے بحیرہء روم عبور کر کے اطالوی جزائر کا رخ کرنے والوں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے اور رواں برس بھی ہزاروں افراد اسی راستے سے اٹلی پہنچے ہیں، جب کہ اس خوف ناک سفر میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بھی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔