1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم میں قریب ڈیڑھ ہزار مہاجرین ریسکیو

ہفتے کے روز اطالوی کوسٹ گارڈز اور امدادی اداروں نے بحیرہء روم کی موجوں سے نبردآزما 14 سو تارکین وطن کو بچا لیا۔ ہر اختتام ہفتہ پر درجنوں مہاجرین شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سردی کے باوجود شمالی افریقہ سے شکستہ حال کشتیوں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن کی تعداد بدستور جوں کی توں دکھائی دے رہی ہے۔ یہ افراد شمالی افریقی ممالک خصوصاﹰ لیبیا سے کشتیوں کے ذریعے اطالوی جزائر کا رخ کر رہے ہیں۔ اطالوی حکام کے مطابق ہفتے کے روز مختلف آپریشنز کے ذریعے چودہ سو تارکین وطن کو ڈوبنے سے بچایا گیا۔

امدادی سرگرمیوں میں مصروف اداروں کا کہنا ہے کہ یہ تارکین وطن سات مختلف کشتیوں میں موجود تھے اور بحیرہء روم کی بلند موجوں سے لڑ رہے تھے۔ اطالوی کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ امدادی اداروں کے ساتھ مل کر کی گئی ان کارروائیوں کے ذریعے ان ساتوں کشتیوں میں سوار مہاجرین کو بچایا گیا، جن میں سے چھ کشتیاں ربڑ کی تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک کشتی آٹھ سو تارکین وطن سے بھری ہوئی تھی اور اس کشتی پر سوار افراد کو بچانے کے لیے عالمی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے بحری جہاز نے بھی مدد کی۔ اس امدادی ادارے کے مطابق اس کشتی پر سوار مہاجرین میں قریب دو درجن بچے بھی شامل تھے۔ امدادی سرگرمیوں میں ایس او ایس میڈیٹرینیئن اور جرمن ادارہ یوگنڈ ریٹیٹ بھی شامل رہے۔

Niger Agadez Sahara Flüchtlinge Wasser (Reuters/Akintunde Akinleye)

شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے مہاجرین اطالوی جزائر پر

نومبر کے آغاز سے اب تک بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد قریب ساڑھے پانچ ہزار ہے، جب کہ ان افراد کی اکثریت اس وقت مختلف اطالوی جزائر پر موجود ہے۔ ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق متخلف افریقی ممالک سے ہے اور یہ ایک بہتر زندگی کا خواب لیے ایک سخت اور خطرناک سفر اختیار کر کے یورپ پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

گزشتہ برس نومبر میں شمالی افریقہ سے اطالوی جزائر پہنچنے والے تارکین وطن کی تعداد تین ہزار دو سو تھی۔

رواں برس یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران چار ہزار سے زائد مرد، خواتین اور بچے بحیرہء روم میں ڈوب کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

مارچ میں ترکی اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور بلقان ریاستوں کی جانب سے اپنی قومی سرحدیں بند کر دینے کے بعد بحیرہء ایجیئن کے ذریعے یونان پہنچنے والے مہاجرین کی تعداد میں نمایاں کمی ہوئی ہے، تاہم شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے والے افراد کی تعداد میں خاصا اضافہ دیکھا گیا ہے۔