1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم میں تارکین وطن کو پکڑ کر افریقہ واپس لوٹایا جائے، باویرین قانون ساز

جرمنی کے جنوبی صوبے باویریا کے قانون سازوں کا کہنا ہے کہ شمالی بحیرہء روم عبور کر کے غیرقانونی طور پر یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والوں کو سمندر میں روک کر واپس افریقہ بھیج دیا جانا چاہیے۔

باویریا کے سیاست دانوں کی رائے ہے کہ ایسے تارکین وطن جن کے پاس شناختی دستاویزات نہ ہوں، انہیں یورپ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کی بجائے ٹرانزٹ مراکز میں بھیجا جانا چاہیے۔

یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب جرمنی میں سلامتی اور مہاجرین سے متعلق بحث شدید ہو گئی ہے۔ جرمنی میں اگلے برس وفاقی انتخابات کا انعقاد ہونا ہے اور ان میں یہی دو معاملات سب سے زیادہ اہمیت کے حامل سمجھے جا رہے ہیں۔ چانسلر انگیلا میرکل کی جماعت کرسچیئن ڈیموکریٹک یونین (CDU) کی باویریا صوبے میں سسٹر پارٹی کرسچیئن سوشل یونین (CSU) سے وابستہ قدامت پسند قانون سازوں کا خیال ہے کہ صرف اسی طریقے سے یورپ اورجرمنی کو درپیش مہاجرین کے بحران کا حل ممکن ہے۔ اس حوالے سے تیار کیا گیا مسودہ اگلے ہفتے منظرعام پر آنے کی توقع ہے۔

اگلے ہفتے سی ایس یو پارٹی کنوینشن کا انعقاد کر رہی ہے۔ جرمن اخبار ’رائنشے پوسٹ‘ کے مطابق اس کنوینشن میں ممکنہ طور پر یہ مطالبہ کیا جا سکتا ہے کہ بحیرہء روم سے یورپ میں داخل ہونے والے ہزاروں مہاجرین کو دوبارہ شمالی افریقہ لوٹا دیا جائے۔

Mittelmeer gerettete Bootflüchtlinge (picture-alliance/AP Photo/M. Chernov)

بحیرہء روم عبور کرنے والے ہزاروں مہاجرین اطالوی جزائر پر پہنچائے جاتے ہیں

اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ایس یو کا علاقائی بلاک  مطالبہ کر سکتا ہے کہ وہ بحیرہء روم میں بچائے جانے والے مہاجرین کو یورپ لانے کی موجودہ پالیسی تبدیل کی جائے۔

بحیرہء روم میں ریسکیو کیے جانے والے افراد کو دوبارہ شمالی افریقہ بھیجنے سے متعلق یہ مطالبہ نیا نہیں، کیوں کہ اس سے قبل نومبر کے آغاز میں وفاقی وزیرداخلہ تھوماس ڈے میزیئر بھی یہی تجویز دے چکے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے شمالی افریقہ سے یورپ کا خطرناک سفر اختیار کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو گی، کیوں کہ انہیں معلوم ہو گا کہ انہیں یورپ میں رہائش کی اجازت نہیں ملے گی۔