1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم سے آٹھ مہاجرین کی لاشیں برآمد

مالٹا اور لیبیا کے درمیان بحیرہء روم سے آٹھ مہاجرین کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں، جب کہ ایک شخص کو انتہائی تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی کشتی سے ان افراد کی نعشیں نکالی گئیں، جب کہ ایک مہاجر کو تشویش ناک حالت میں ایک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت والے یونٹ میں منتقل کر ديا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ کشتی مالٹا کے جنوب میں سو میل کے فاصلے پر بحیرہء روم میں تیرتی ہوئی ملی۔ ہفتے کی دوپہر اس کشتی تک پہنچنے پر معلوم ہوا کہ اس پر موجود نو میں سے سات افراد فوت ہو چکے ہیں، جب کہ دو زندگی اور موت کی کشمکش میں مصروف ہیں۔ حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر کی مدد سے ان دونوں افراد کو ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ ان میں سے ایک چل بسا۔

MOAS Operation Mittelmeer zwischen Libyen und Malta gerettete Flüchtlinge (picture-alliance/dpa/Y. Nardi/Italian Red Cross)

تارکین وطن یورپ پہنچنے کے لیے بحیرہء روم کا خطرناک سفر اختیار کر رہے ہیں

مالٹا کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ کشتی بحیرہء روم کی موجوں کا مقابلہ کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف تھی، جب کہ شدید سردی اور خراب موسم اس کشتی کے مسافروں کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا ہو گا۔

فی الحال ان ہلاکتوں کی حتمی وجہ سامنے نہیں آئی ہے، جب کہ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ ہلاک شدگان کا تعلق کس ملک سے ہے۔ تاہم مالٹا کے ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں متنقل کیے گئے مہاجر کی عمر بیس اور تیس برس کے درمیان ہے۔

یہ بات اہم ہے کہ رواں برس بحیرہء روم کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے تارکین وطن میں سے اب تک قریب سینتالیس سو مہاجرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بحیرہء روم میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 3,777 تھی۔