1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

بحیرہء روم رواں برس پانچ ہزار تارکین وطن کھا گیا

رواں برس شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم رواں برس اس خطرناک راستے سے بحیرہء روم عبور کر کے اطالوی ساحلوں تک پہنچنے کی کوشش ریکارڈ تعداد میں تارکین وطن کو نگل گئی۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ رواں برس اب تک بحیرہء روم میں ڈوب کر ہلاک ہونے والے تارکین وطن کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ گزشتہ برس یہ تعداد تین ہزار سات سو اکہتر تھی۔

جمعے کے روز عالمی ادارہ برائے مہاجرین نے جنیوا میں بتایا کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں بحیرہء روم عبور کر کے یورپ پہنچنے کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والی کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ خراب موسم ان افراد کی ہلاکت میں اہم کردار ادا کرنے والے عناصر میں سے ایک محرک تھا۔

Mittelmeer Flüchtlingsboot (Getty Images/AFP/A. Solaro)

شمالی افریقہ سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والے افراد کی تعداد بڑھی ہے

یو این ایچ سی آر کے ترجمان وِلیم سپنڈلر نے جنیوا میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا، ’’انسانوں کے اسمگلر کوسٹ گارڈز سے بچنے کے لیے زیادہ خطرناک اور نئے طریقے استعمال کر رہے ہیں، جن میں بہت سی کشتیوں کو ایک ساتھ بحیرہء روم عبور کرانے کی کوشش ہے۔ اس سے بھی ریسکیو آپریشنز میں مشکلات پیش آتی ہیں کیوں کہ بیک وقت متعدد مقامات پر مہاجرین کو بچانا آسان نہیں ہوتا۔‘‘

سپنڈلر کا مزید کہنا تھا کہ بحیرہء روم عبور کرنے کے لیے استعمال کی جانے والی کشتیوں کا معیار بھی حالیہ کچھ عرصے میں گرا ہے اور یہ بھی ان ہلاکتوں میں اضافے کی ایک اہم  وجہ ہے۔

جمعرات کے روز بھی بحیرہء روم عبور کرنے کی کوشش کے دوران ربر کی دو کشتیاں ڈوب گئیں۔ اس واقعے میں کم از کم سو افراد کی ہلاکت کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں، جب کہ ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت کا کہنا ہے کہ خراب موسم، سخت سردی اور طوفانی لہروں کی وجہ سے گنجائش سے زیادہ تارکین وطن سے بھری کشتیوں کے ڈوبنے کے واقعات بڑھے ہیں اور ہلاکتوں میں اضافے کی ایک وجہ بھی یہی ہے۔