1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحیرہء احمر میں ایلات اور عقبہ کی بندرگاہوں پر راکٹ حملے

مصر کے علاقے سیناء سے پیر کو اسرائیلی سیاحتی مرکز ایلات اور اردن کی بندرگاہ عقبہ پر متعدد راکٹ فائر کئے گئے۔ عقبہ میں ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے۔ تاہم اسرائیل میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

default

اسرائیل، روس اور امریکہ نے ان حملوں کی مذمت کی ہے جبکہ اردن نے اسے دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نے ان حملوں کے سلسلے میں اردن کے شاہ عبداللہ اور مصری صدر حسنی مبارک سے بات کی ہے۔

Israel Palästinenser Gaza Ministerpräsident Benjamin Netanyahu

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو

اسرائیلی پولیس کے مطابق پیر کو صبح سویرے پانچ دھماکے سنائی دئے جبکہ ایک راکٹ ایلات کے باہر ایک میدان میں پھٹا، دو بحیرہء احمر میں گرے اور باقی اردن کے علاقے میں۔

اُدھر اردن کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک راکٹ عقبہ کے علاقے میں گرا، جو ایلات سے دس کلومیٹر سے بھی کم کے فاصلے پر واقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے ایک بعدازاں چل بسا۔ اردن کے وزیر اطلاعات علی سید نے ایک بیان میں کہا، ’یہ مجرمانہ اور دہشت گردانہ کارروائی ہے، اس کے پیچھے مذموم مقاصد ہیں اور ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ تحقیقات کے مطابق راکٹ اردن کی حدود کے باہر سے فائر کیا گیا۔ خبررساں ادارے AFP کے مطابق اردن ہی کے ایک اور حکومتی عہدے دار نے سیناء کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ راکٹ عقبہ کے جنوب مغربی علاقے سے فائر کیا گیا۔

ایلات کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق راکٹ جنوبی علاقے سے فائر کئے گئے۔

Kronprinz Abdullah II im Interview bei CNN

اردن کے شاہ عبداللہ

واضح رہے کہ سیناء کا علاقہ ایلات کے جنوب میں دس کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر واقع ہے۔ یہ پہاڑی اور صحرائی علاقہ خلیج عقبہ کے ساتھ ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حملے کے مقام کا پتا چلانے کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔

مصری حکام کا کہنا ہے کہ سیناء کے علاقے سے ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس حملے کے لئے کسی کو بھی وہاں بھاری اسلحہ اور آلات لے جانے ہوں گے، جو وہاں تعینات سخت سکیورٹی کے تناظر میں ناممکن ہے۔ قاہرہ حکام نے کہا، ’سیناء میں بالخصوص مصر اور اسرائیل کی سرحد کے ساتھ سخت سکیورٹی تعینات ہے اور اس علاقے میں کوئی مشتبہ نقل و حرکت نہیں دیکھی گئی۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس