1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحر اوقیانوس میں فرانسیسی طیارے کی تلاش جاری

بحر اوقیانوس پر پرواز کے دوران لاپتہ ہو جانے والے ایئر فرانس کے طیارے کی تلاش جاری ہے۔ کئی ممالک کے ہوائی اور بحری جہاز طیارے کی تلاش میں مصروف ہیں۔

default

لاپتہ ہو جانے والے فرانسیسی طیارے ایئر بیس 330-200 کی ایک فائل فوٹو

لاپتہ ہو جانے والے جہاز میں 228 افراد سوار تھے۔ فرانیسی صدر نکولا سارکوزی نے خدشتہ ظاہر کیا ہے کہ جہاز میں سوار افراد میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔

برازیل کی ہوائی کمپنی TAM کے ایک پائلٹ نے بتایا ہے کہ اُس نے سمندر میں آگ کا ایک گولہ گرتے دیکھا تھا جو امکاناً جہاز کا جلتا ملبہ ہو سکتا ہے۔ یہ ملبہ اندازاً برازیل کے ایک جزیرے Fernando de Noronha سے تیرہ سو کلو میٹر دور کھلے سمندر میں گرنے کا امکان ہے۔

امریکہ کی جانب سے بھی ایک امدادی ٹیم روانہ کرنے کا اعلان سامنے آ یا ہے۔ عمومی رائے یہی دی جا رہی ہے کہ ائیرفرانس کاطیارہ آسمانی بجلی کا نشانہ بننے کے باعث حادثے کا شکارہوا۔ ائیرفرانس کے سربراہ Pierre Henri نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پیرس کے وقت کے مطابق کوئی سوا چار بجے طیارے کے خود کار آلات سے بہت سارے پیغامات موصول ہوئے جس میں متعدد حصوں اور ان کے افعال کے خراب ہونے کی اطلاعات تھیں۔ تاہم ابھی تک ممکنہ حادثے کی اصل وجوہات کے بارے میں صورتحال غیر یقینی ہیں۔ طیارے میں کُل 228 مسافر سوار تھے۔ اِن میں بارہ عملے کے اراکین بھی شامل ہیں۔

برازیل کی جانب سے جاری کی گئی فہرست کے مطابق طیارے میں 20 سے زائد جرمن باشندے بھی سوار تھے۔ طیارہ برازیل کے بندرگاہی شہر ریوڈی جنیرو سے پیرس آ رہا تھا۔ جہاز کے ملبے کی تلاش میں برازیل آرمی کے ہیلی کاپٹرزاور فوجیوں کے ساتھ ساتھ نیوی کے بحری جہاز بھی شریک ہیں اس کے علاوہ فرانس، ہسپانیہ اور سینیگال کے ہواائی و بحری جہازبھی لاپتہ ہونے والے طیارے کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ اُدھر پیرس کے شارل ڈی گال ہوائی اڈے پر ہنگامی مرکز قائم کر دیا گیا ہے۔