1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’بحرین کے داخلی حالات انتہائی مخدوش ہیں‘

اقوام متحدہ کے خصوصی ماہرین نے بحرین کے سیاسی عدم استحکام پر اپنی رپورٹ انسانی حقوق کی کونسل کو پیش کر دی ہے۔ اس خلیجی ریاست کی حکومت کو اکثریتی آبادی کی جانب سے مسلسل احتجاج کا سامنا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے خلیجی ریاست بحرین میں حکومتی کریک ڈاؤن کی چھان بین کرنے کے بعد کہا کہ تازہ حکومتی اقدامات عوامی بے چینی اور بے سکونی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق بحرین میں انسانی حقوق کے منافی اقدامات کی وجہ سے مجموعی صورت حال گزشتہ برس سے انتہائی تیزی کے ساتھ خراب تر ہو رہی ہے۔

پانچ آزاد مبصرین نے بحرین سے متعلق اپنی رپورٹ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کو پیش کر دی ہے۔ انسانی حقوق کے ان پانچ ماہرین میں مالدیپ سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے وکیل احمد شہید بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں بحرین میں حکومتی کریک ڈاؤن، انسانی حقوق کی خراب صورت حال، جلسہ یا جلوس نکالنے پر پابندی، مذہبی آزادی، جبری قید اور موت کی سزا پر عمل درآمد جیسے معاملات پر تحقیقات شامل ہیں۔

Bahrain Proteste Frau und Mauer mit Graffiti (dapd)

بحرین کی شیعہ آبادی نے اپنے احتجاج کا سلسلہ سن 2011 سے شروع کر رکھا ہے

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ بحرین کے سکیورٹی ادارے پرامن جلوسوں کو بھی غیرضروری طاقت استعمال کرتے ہوئے کچلنے سے گریز نہیں کرتے ہیں اور اس طرح وہ عوام کی حفاظت کرنے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو سنگین الزامات کا سامنا ہے اور ان الزامات کے تحت موت کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ بحرین کی سنی بادشاہت کے تحت قائم حکومت ان الزامات سے مسلسل انکار کرتی چلی آ رہی ہے۔

بحرینی حکومت نے حکومت مخالف مظاہروں کو کرش کرنے کے حوالے سے موت کی سزا پر پھر سے عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ عرب ریاست بحرین کی اکثریتی شیعہ آبادی اپنے سول حقوق کے حصول کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ شیعہ آبادی نے اپنے احتجاج کا سلسلہ سن 2011 سے شروع کر رکھا ہے۔

بحرین امریکی اتحادی ملک ہے اور اس میں امریکی بحریہ کے ’ففتھ فلیٹ‘ کا فوجی اڈہ قائم ہے۔