1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحرین کی عدالت نے اہم شیعہ سیاسی جماعت تحلیل کر دی

بحرین کی ایک عدالت نے اہم شیعہ جماعت الوفاق کو تحلیل کر دیا ہے۔ اس جماعت پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ ملک میں تشدد اور دہشت گردی کو ہوا دے رہی ہے۔

بحرین کی سرکاری نیوز ایجنسی بی این اے نے عدالتی حکم نامے کے حوالے سے بتایا ہے کہ الوفاق ملک میں عدم برداشت کو ہوا دے رہی ہے، جس کی وجہ سے دہشت گردی اور شدت پسندی کو شہ ملنے کے ساتھ ساتھ ملک کے داخلی معاملات میں غیرملکی مداخلت کی راہ ہم وار کی جاتی ہے۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی الوفاق کے پاس موجود تمام اثاثوں اور سرمایے کو حکومتی خزانے میں داخل کر دیا گیا ہے۔

گزشتہ ماہ بحرین کی ایک عدالت نے پانچ شیعہ افراد کو ’دہشت گردی‘ کے جرم میں سزائے قید سناتے ہوئے ان کی شہریت منسوخ کر دی تھی۔ ناقدین کے مطابق سُنی حکومت ملکی شیعہ اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہے۔

بحرین کے وزارئے استغاثہ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ ان میں سے تین ملزمان کا تعلق المختار بریگیڈ نامی شیعہ گروپ سے تھا، جب کہ ان کے قبضے سے ممکنہ ’’دہشت گردانہ حملوں‘‘ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔ ان ملزمان پر یہ الزام بھی تھا کہ یہ پولیس پر حملے کرنا چاہتے تھے۔ جاری ہونے والے بیان کے مطابق ایک فوج داری عدالت نے ان تینوں افراد کو پندرہ پندرہ برس قید کی سزائیں سنائی تھیں جب کہ ان کی شہریت بھی منسوخ کر دی گئی تھی۔

گزشتہ ماہ ہی بحرین نے شیعہ اپوزیشن بلاک الوفاق کے خاتمے کے لیے قبل از وقت عدالتی کارروائی شروع کر دی تھی۔ اس کارروائی کا آغاز رواں برس اکتوبر میں ہونا تھا، تاہم اقوام متحدہ اور امریکا کی طرف سے اس ترک کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

الوفاق ملکی پارلیمان کا سب سے بڑا بلاک تھا تاہم 2011ء میں ہونے والے مظاہروں کو حکومت کی طرف سے کچلے جانے پر بطور احتجاج اس بلاک کے ارکانِ پارلیمان نے استعفے دے دیے تھے۔ واشنگٹن کی طرف سے مظاہرین کے خلاف اُس کریک ڈاؤن کو ’الارمنگ‘ قرار دیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ ایک اپیل کورٹ نے الوفاق کے سربراہ علی سلمان کو تشدد بھڑکانے کے الزام میں دی جانے والی چار سالہ سزائے قید میں دو گنا سے بھی زیادہ اضافہ کر دیا تھا۔

بحرین کے اتحادی امریکا کی طرف سے ’اصلاحات اور مصالحت‘ کے لیے متعدد مرتبہ درخواست کے باوجود بحرین نے حالیہ ہفتوں کے دوران اعلیٰ شیعہ شخصیات کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہے۔ 20 جون کو بحرین حکومت کی طرف سے ملک کے اعلیٰ ترین شیعہ رہنما شیخ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کردی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد نہ صرف اس رہنما کے آبائی گاؤں دیراز میں احتجاج کیا گیا بلکہ ایران کی طرف سے بھی بحرین کے اس فیصلے کی مذمت کی گئی۔