1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحرین نے اعلیٰ ترین شیعہ رہنما کی شہریت منسوخ کر دی

خلیجی ریاست بحرین نے اپنے ملک کے سب سے اہم شیعہ مذہبی رہنما کی شہریت منسوخ کر دی ہے۔ آیت اللہ عیسیٰ قاسم کو بحرینی اکثریتی شیعہ آبادی کا روحانی پیشوا تصور کیا جاتا ہے۔

default

آیت اللہ عیسیٰ قاسم

بحرینی وزارت داخلہ کے ایک بیان میں کہا گیا کہ عدالت کی جانب سے معطل کی گئی شیعہ سیاسی جماعت جمعیہ الوفاق الوطنی الاسلامیہ (الوفاق) کے روحانی قائد آیت اللہ عیسیٰ قاسم کی بحرینی شہریت منسوخ کر دی گئی ہے۔ بحرینی آیت اللہ کی عمر اناسی برس ہے۔ آیت اللہ عیسیٰ قاسم کو خلیج فارس کی ریاستوں کی شیعہ آبادی کے سینیئر اکابرین اور عمائدین میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ بحرین میں عراق کے سب سے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ علی سیستانی کے نمائندے بھی ہیں۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے آیت اللہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ جب سے انہوں نے بحرینی شہریت حاصل کی ہے تب سے غیر ملکی سیاسی نظریوں سے متاثر ہو کر ایسی تنظیموں کی بنیاد رکھی ہے، جو ریاست کے اندر انتشار کا سبب بنی ہیں۔ وزارتِ داخلہ نے بحرین میں سیاسی تناؤ اور کشیدگی میں اُن کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ آیت اللہ قاسم بحرین کے ماہی گیری کے لیے مشہور شمالی جزیرے دُوراز میں پیدا ہوئے تھے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق بحرینی حکومت نے سیاسی عدم استحکام کے تناظر میں سن 2015 میں اپنے ملک کے 205 افراد کی شہریت کو منسوخ کر دیا تھا۔

Bahrain Ali Salman Oppositioneller

الوفاق کے مقید رہنما علی سلمان کے حق میں نکالا گیا مظاہرہ

لبنان کے شیعہ عسکری گروپ حزب اللہ نے آیت اللہ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کرنے کے بحرینی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اِس کے انتہائی منفی رجحانات سامنے آ سکتے ہیں۔ ایران کی حمایت یافتہ شیعہ انتہا پسند تنظیم حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا کہ اِس فیصلے سے بحرین کی شیعہ آبادی کی مشکلات اور مسائل میں شدید اضافہ ہو گا۔ لبنانی تنظیم نے اپنے بیان میں بحرین کی حکومت کو بدعنوان اور آمرانہ بھی قرار دیا۔ اِسی بیان میں بحرینی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے مزید کہا گیا کہ اِس فیصلے کے بعد یہ حکومت ایک بند گلی میں داخل ہو گئی ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ ابھی گزشتہ ہفتے کے دوران خلیجی ریاست بحرین کی ایک عدالت نے مرکزی سیاسی پارٹی الوفاق (جمعیہ الوفاق الوطنی الاسلامیہ) کو معطل کرتے ہوئے اس کی ہر قسم کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ خلیجی ریاست کی وزارتِ انصاف کے مطابق عدالت نے الوفاق کو خلافِ قانون کارروائیوں میں شریک ہونے کے تناظر میں پوری طرح تحلیل کرنے سے قبل معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ بحرینی عدالت نے الوفاق کے دفتر کو سربمہر کرنے کے علاوہ اِس کے مالی اثاثوں کو بھی منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔ الوفاق کے اعتدال پسند رہنما اور شیعہ عالم علی سلمان پہلے ہی نو برس کی سزا بھگت رہے ہیں۔ وہ سن 2014 میں گرفتار کیے گئے تھے۔