1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

بحرین میں ہنگامی حالت ختم

بحرین میں ہنگامی حالت اٹھا لی گئی ہے۔ حکومت نے پولیس کو چوکنا رہنے کا حکم دیا ہے۔ تا کہ اگر دوبارہ حکومت مخالف مظاہرے شروع کیے جائیں تو فوری کارروائی کرتے ہوئے افراتفری کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔

default

بحرین میں حکومت اب تک اپنے پڑوسی ممالک کی فوج کی مدد سے اپوزیشن کی تحریک کو دبانے میں کامیاب رہی ہے۔ بحرین کے دارالحکومت مناما کے بہت سے مقامات پر سعودی عرب کے پرچم دکھائی دیتے ہیں۔ شہر میں آویزاں متعدد بورڈز پر بھی سعودی بادشاہ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ بحرین کا حکمران طبقے کا اپنے حلیفوں اور پڑوسیوں کا شکریہ ادا کرنے کا یہ ایک طریقہ ہے۔ اس طرح مناما حکام نے نہ چاہتے ہوئے بھی دنیا پر یہ باورکرا دیا کہ ان کے ملک میں کس کی بات مانی جاتی ہے۔ ملکی وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد الخلیفہ نے چند دنوں قبل کہا تھا کہ یکم جون کے بعد صورتحال کو قابو میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آرمی بیرکوں میں واپس چلی جائے گی۔ تاہم پولیس چوبیس گھنٹے تیار رہے گی۔ کیونکہ یکم جون کے بعد کا وقت انتہائی نازک ہو گا۔ ’’ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہےکہ تمام معاملات صحیح رہیں۔ ہر قیمت پر افراتفری اور بدنظمی کودوبارہ پھیلنے سے روکا جائے‘‘۔

Bahrain Proteste Unruhen Demonstrationen März 2011 Flash-Galerie

حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں تیس افراد ہلاک ہوئے

بحرین میں شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے نبیل رجب نے بتایا کہ بہت جلد یہ فیصلہ ہونے جا رہا ہے کہ کیا رواں سال بحرین میں فارمولا ون کار ریسنگ منقعد کرائی جانی چاہیے یا نہیں؟ ان کے بقول صرف اسی وجہ سے ہنگامی حالت ختم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لاء ختم کرنے کے فیصلے کا تعلق ملکی سیاست سے نہیں بلکہ معاشی مفادات سے ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ ہر حال میں فارمولا ون یہاں منقعد ہو۔ تا کہ وہ دنیا کو یہ بتا سکیں کہ بحرین میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔

بحرین میں حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں تیس افراد ہلاک ہوئے، ایک ہزار سے زائد کو گرفتار کیا گیا، درجنوں لاپتہ ہو گئے اور کم از کم دو ہزار افراد کو اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

قطر سے تعلق رکھنے والے ماہر شادی حامد کے خیال میں بحرین کے مسئلے کو سیاسی سطح پر حل کرنا بہت مشکل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتےکہ بحرین جمہوریت کی جانب گامزن ہو گا یا واقعی ملکی نظام میں کوئی اصلاحات لائی جائیں گی۔ سعودی عرب نواز حکمران طبقہ اپوزیشن کے مطالبات سمجھنے سے قاصر ہے۔ فریقین کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔

Golfstaaten senden Streitkräfte nach Bahrain

خلیجی ممالک کے دستے ابھی بحرین میں ہی رہیں گے

مارچ کے وسط سے بحرین میں ایک طرح کا مارشل لاء نافذ تھا، جسے بادشاہ نے قومی سلامتی کا نام دیا ہوا تھا۔ ہنگامی حالت کے خاتمے کے ساتھ ہی سڑکوں سے فوجی ٹینک ہٹ گئے ہیں لیکن سکیورٹی فورسز کے جوان موجود ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے فوجی اہلکاروں کو بھی ابھی واپس نہیں بھیجا گیا ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : امجد علی

DW.COM